/000010.gif


اسلام، القرآن


قرآن مجید کی تلاوت کا مسائل

١. قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنا حفظ پڑھنے سے افضل ہے
٢. مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو ہو کر اور اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور تلاوت شروع کرتے وقت اعوذ باللّٰہ الخ پڑھنا واجب ہے نیز تلاوت شروع کرتے وقت اور ہر سورة کے شروع میں بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم پڑھنا سنت ہے اور کسی سورة کے درمیان سے شروع کرتے وقت بسم اللّٰہ کا پڑھنا مستحب ہے تلاوت کے درمیان میں کوئی دنیاوی کام کرے تو اعوذ باللّٰہ کا اعادہ کرے
٣. اگر سورة برائت سے تلاوت شروع کرے تو اعوذ باللّٰہ اور بسم اللّٰہ پڑھ لے اگر پہلے سے تلاوت شروع کی ہوئی ہے اور پڑھتے پڑھتے آگے یہ سورة شروع ہوتی ہے تو اس کے شروع میں بسم اللّٰہ کہنے کی ضرورت نہیں اور اس کے شروع میں ایک نیا تعوذ جو حافظوں نے نکالا ہے وہ بے اصل ہے
٤. گرمیوں میں صبح کو قرآن مجید ختم کرنا بہتر ہے اور جاڑوں میں اول شب کو ختم کرنا بہتر ہے
٥. تین دن سے کم میں قرآن پاک کا ختم خلاف اولیٰ ہے لیکن اکابرِ امت اس حکم سے مستثنیٰ ہیں
٦. لیٹ کر قرآن مجید پڑھنے میں مضائقہ نہیں لیکن دونوں پائوں سمٹے ہوئے ہوں کہ لیٹنے کا ادب یہی ہے- اسی طرح چلتے ہوئے یا کسی کام میں لگے ہوئے قرآن مجید پڑھنا جبکہ دھیان اس میں ہو جائز ہے ورنہ مکروہ ہے
٧. غسل خانہ اور نجاست کے مقامات میں قرآن مجید پڑھنا جائز نہیں
٨. جہاں قرآن مجید پڑھا جائے اگر وہاں مجمع سننے کی غرض سے ہے تو سب پر سننا فرض ہے ورنہ ایک کا سننا کافی ہے
٩. قرآن مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جبکہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے ہوئے کو تکلیف نہ پہنچے
١٠. مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں تو یہ مکروہ تحریمی ہے آہستہ پڑہنا چاہئے- آج کل ایصال ثواب کی مجالس میں ختم قرآن سپاروں پر پڑھنے کا جو عام رواج ہو گیا ہے اس کے جواز کا فتویٰ دیا گیا ہے
١١. بازروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے قرآن پڑھنا ناجائز ہے اسی طرح جہاں علمِ دین پڑھایا جا رہا ہو یا تالبعلم علم دین کا تقرار کریں یا مطالعہ دیکھے وہاں بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا جائے
١٢. قرآن مجید کا سننا خود تلاوت کرنے اور نوافل پڑھنے سے افضل ہے
١٣. اگر تلاوت کے دوران کوئی دین میں بزرگی والا شخص یا بادشاہِ اسلام یا عالمِ دین یا پیر یا استاد یا ماں باپ آ جائیں تو تلاوت کرنے والا اس کی تعظیم کو کھڑا ہو سکتا ہے



اگلا صفحہ