اسلام، زبدة الفقہ، کتاب ایمان،



آپ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب کے مشہور و بزرگ ترین خاندانِ قریش میں سے ہیں اور ملکِ عرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، عرب کے تمام خاندانوں میں خاندانِ قریش کی عزت اور مرتبہ سب سے زیادہ تھا اور یہ دوسرے خانذانوں کےسردار مانے جاتے تھے، پھر خاندانِ قریش کی ایک شاخ بنی ہاشم تھی، جو قریش کی دوسری شاخوں سے زیادہ عزت رکھتی تھی، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس شاخ بنی ہاشم میں سے ہیں، اس لئے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ہاشمی بھی کہتے ہیں، ہاشم آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پردادا کا نام ہے، آپ کا سلسلہ نسب چار پشت تک ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہئے، وہ اس طرح ہے محمد (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) بن عبداللّٰہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف۔ چالیس برس میں آپ پر وہی کا نزول ہوا۔ یعنی اللّٰہ تعالٰی نے اپنا کلام قرآن مجید اور اپنےاحکام اتارنے شروع کئے۔ اس کے بعد آپ تئیس سال زندہ رہے، ظہور نبوت سے تیرہ سال تک یعنی کل ترپن سال مکہ معظمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام پزیر رہے۔ جب آپ نے مکہ معظمہ میں دینِ اسلام کی تبلیغ شروع کی تو مکہ معظمہ کے کفار و مشرکین نے آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچانی شروع کر دیں آپ برداشت کرتے رہے۔

ہجرت
آخر جب ان کی دشمنی کی کوئی حد نہ رہی اور سب نے مل کر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے اپنے پیارے وطن مکہ معظمہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اس کو ہجرت کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے مسلمانوں کا سن ہجری جاری ہوا ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لےجانے کی خبر سن کر اور مسلمان بھی جن کو کافر ستاتے رہتے تھے آہستہ آہستہ مدینہ منورہ چلے گئے، ان مسلمانوں کو جو مکہ مکرمہ سے اپنے گھر بار چھڑ کر مدینہ طیبہ چلے آئے مہاجرین کہتے ہیں اور مدینہ طیبہ کے مسلمان جنہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور مہاجرین کی مدد کی انصار کہلاتے ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دس سال مدینہ منورہ کے قیام کے زمانے میں اللّٰہ پاک نے آپ کو دو فتوحات نصیب فرمائیں کہ جن کی برکت سے آج اسلام دنیا کے گوشہ گوشہ میں رائج ہے۔ چند دن اوپر تریسٹھ سال کی عمر میں بروایتِ مشہور بتاریخ ١٢ ربیع الاول سن ١١ ہجری بروز دو شنبہ آپ کے جسد اطہر سے روح مبارک نے سوئے رفیقِ اعلی پرواز کی،
اِنَّک مَیتُ وَ اِنَّھم مِیِّتُونَ اِنَّا لِلّٰہ واِنَّا اِلِیہِ رَاجِعُونَ
(آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مفصل حالات و اخلاق و عادات وغیرہ کتب احدیث و شمائل و سیر و تواریخ میں ملاحظہ کریں۔)

عقیدہ
انبیائ علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح بہ حیاتِ حقیقی زندہ ہیں، جیسا کہ دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں، تصدیق و وعدہ الٰہی کے لئے ایک آن کو ان پر موت طاری ہوئی، پھر زندہ ہو گئے، ان کی یہ حیات شہدا کی حیات سے بہت ارفع و اعلٰی ہے لیکن اس کی کیفیت اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے ۔



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ