اسلام، زبدة الفقہ، کتاب ایمان،


قیامت کا دن اس دن کو کہتے ہیں جب اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے، قیامت کا آنا برحق ہے۔ اس کا ٹھیک وقت اللّٰہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا اتنا معلوم ہے کہ جمعہ کا دن اور محرم کی دسویں تاریخ ہو گی۔ اس کی جو نشانیاں حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمائیں ہیں، سب حق ہیں اور وہ دو قسم پر ہیں
١. علاماتِ صغریٰ،
٢. علاماتِ کبریٰ،

علامات صغریٰ
جو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال مبارک سے لے کے مہدی علیہ السلام کے ظہور تک ظاہر ہوں گی، بہت زیادہ ہیں ان میں سے کچھ مختصراً یہ ہیں ۔
١. حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اس دارِ فانی سے پردہ فرمانا،
٢. بیت المقدس کا فتح ہونا،
٣. ایک عام وبا کا ہونا( یہ دو نشانیاں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں پوری ہوئی)،
٤. مال کا زیادہ ہونا( یہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں ہوا)،
٥. ایک فتنہ جو عرب کے گھر گھر میں داخل ہو گا(یہ شہادتِ عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا سبب تھا)،
٦. مسلمانوں اور نصاریٰ میں صلح ہو گی، پھر نصاریٰ غدر کریں گے، (یہ علامات آئندہ ہونے والی ہے)،
٧. علم اٹھ جائے گا جہل بڑھ جائے گا،
٨. زنا اور شراب خوری کی بہت ہی کثرت ہو گی،
٩. عورتیں زیادہ اور مرد کم ہوں گے( یہ غالباً حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں جہاد میں مردوں کے بکثرت شہید ہونے سے ہو گا)،
١٠. جھوٹ بولنا کثرت سے ہو گا،
١١. بڑے بڑے کام نااہلوں کے سپرد ہوں گے، بےعلم اور کم علم لوگ پیشوا بن جائیں گے، کم درجہ کے لوگ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنائیں گے،
١٢. لوگ مصیبتوں کی وجہ سے موت کی آرزو کریں گے،
١٣. سردار لوگ مالِ غنیمت کو اپنا حصہ سمجھیں گے،
١٤. امانت میں خیانت بڑھ جائے گی،
١٥. زکوة دینے کو جرمانہ سمجھیں گے،
١٦. علم دنیا حاصل کرنے کے لئے پڑھیں گے،
١٧. لوگ اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور ان پر سختیاں کریں گے،
١٨. مرد عورت کا فرنمابردار اور ماں باپ کا نافرمان ہو گا اور دوست کو نزدیک اور باپ کو دور کرے گا،
١٩. مسجدوں میں لوگ شور کریں گے،
٢٠. فاسق لوگ قوم کےسردار ہوں گے اور رذیل لوگ قوم کے ضامن ہوں گے، ٢١. بدی کے خوف سے شریر آدمی کی تعظیم کی جائے گی،
٢٢. باجےعلانیہ ہوں گے، گانے بجانے اور ناچ رنگ کی زیادتی ہو جائےگی، ٢٣. امت کے پچھلے لوگ پہلے بزرگوں پر لعنت کریں گے،
٢٤. سرخ آندھی،
٢٥. زلزلے،
٢٦. زمین میں دھنسنا،
٢٧. صورتیں بدل جانا،
٢٨. پتھر برسنا وغیرہ دیگر علامات ظاہر ہوں گی اور اس طرح پے درپےآئیں گی، جس طرح تاگا ٹوٹ کر تسبیح کے دانے گرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اچھے کام اٹھتے جائیں گے اور برے کاموں اور گناہوں کی کثرت ہوتی جائے گی،
٢٩. نصاریٰ تمام ملکوں پر چھا جائیں گے،
٣٠. مسلمانوں میں بڑی ہل چل مچ جائے گی اور گبھرا کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تلاش میں مدینہ منورہ میں آئیں گے اور امام مہدی علیہ السلام مکہ چلے جائیں گے۔ بعض اور علامات بھی ہوں گی مثلاً
٣١. درندے جانور آدمی سے کلام کریں گے،
٣٢. کوڑے پر ڈالی ہوئی جوتی کا تسمہ کلام کرے گا اور آدمی کو اس کے گھر کے بھید بتائے گا۔ بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی،
٣٣. وقت میں برکت نہ ہو گی، سال مہینے کی مانند اور مہینہ ہفتہ کی اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا اور دن ایسا ہو جائے گا جیسا کہ کسی چیز کو آگ لگی اور جلدی بھڑک کر ختم ہو گئی،
٣٤. ملک عرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہو جائیں گی، مال کی کثرت ہو گی،
٣٥. نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے،
٣٦. اس وقت تک تیس بڑے دجال ہوں گے وہ سب نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ نبوت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے، ان میں سے بعض گزر چکےہیں مثلاً مسیلمہ کذاب، طلحہ بن خولید، اسودعنسی، سجاح عورت جو کہ بعد میں اسلام لے آئی وغیرہم اور جو باقی ہیں ضرور ہوں گے اور بھی بہت سی علامات حدیثوں میں آئی ہیں ۔


پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ