اسلام، زبدة الفقہ، کتاب ایمان،


شرک کی تعریف و اقسام
شرک کی تعریف و اقسام اللہ تعالی کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا یا اس کے برابر کسی کو سمجھنا یا کسی کی ایسی تعظیم یا فرمانبرداری کرنا جیسی کہ اللہ تعالی کی کی جاتی ہے شرک کہلاتا ہے۔ بعض شرک سخت حرام ہیں اور بعض شرک کفر میں داخل ہیں۔
شرک کی چند اقسام یہ ہیں
اول شرک فی الذات۔ اللہ تعالی کی ذات میں کسی کو شریک کرنا مثلاً دو یا زیادہ خدا ماننا
دوم شرک فی الصفات - اللہ تعالی کی صفات میں کسی کو شریک ٹھرانا۔ اس کی بہت سی قسمیں ہیں مشہور یہ ہیں
١. شرک فی العلم یعنی کسی دوسرے کے لئے اللہ تعالی کی مانند علم کی صفت ثابت کرنا۔
٢. شرک فی القدرة یعنی اللہ تعالی کی مانند نفع و نقصان دینے یا کسی چیزکی موت و زندگی یا کسی اور کام کی قدرت کسی اور کے لئے ثابت کرنا۔ کسے پیغمبر یا ولی یا شہید کو یہ سمجھنا کہ وہ پانی برسا سکتے ہیں۔
٣. شرک فی السمع یعنی جس طرح اللہ تعالی نزدیک و دور خفی و جہر اور دل کی بات سنتا ہے- کسی نبی یا ولی وغیرہ بھی ایسا سننے والا سمجھنا۔
٤. شرک فی البصر یعنی کسی مخلوق نبی یا ولی یا شہید وغیرہ کو یوں سمجھنا کہ چھپی کھلی اور دور و نزدیک کی ہر چیز کو اللہ کی مانند دیکھتا ہے اور ہمارے کاموں کو ہر جگہ دیکھتا ہے۔
٥. شرک فی الحکم یعنی اللہ تعالی کی طرح کسی اور کو حاکم سمجھنا اور اس کو اللہ کے حکم کی مانند ماننا۔
٦ . شرک فی العبادة ۔ یعنی اللّٰہ تعالٰی کی طرح کسی اور کو عبادت کا مستحق سمجھنا یا کسی مخلوق کے لئے عبادت کی قسم کا کوئی فعل کرنا مثلاً کسی پیر یا قبر کو سجدہ کرنا یا کسی پیر یا نبی یا ولی کے نام کا روزہ رکھنا یا غیر اللّٰہ کی نزر ماننا یا کسی جگہ مکان گھر یا قبر کا خانہ کعبہ کی طرح طواف کرنا- ان کے علاوہ اور جس قدر اللّٰہ تعالٰی کی صفات ہیں خواہ وہ صفات فعالیہ ہوں جیسے رزق دینا، مارنا، زندہ کرنا، عزت دینا وغیرہ یا شئونِ ذاتیہ یا صفات ثبوتیہ یا صفات سلبیہ ہوں ان میں کسی مخلوق کو اللّٰہ تعالٰی کے برابر سمجھنا شرک ہے- ہمارے بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جن میں شرک کی ملاوٹ ہو جاتی  ہے ان سے پرہیز لازمی ہے


پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ