اسلام، زبدة الفقہ، کتاب ایمان،


رسوم کفار و جہال
١. بادشاہ یا حاکم وغیرہ کو سجدہ کرنا خواہ عبادت کی نیت سے ہو یا کسی اور نیت، مثلاً تعظیم وغیرہ سے ہو، شرک فی العبادة ہے،
٢. درختوں کو پوجنا جیسا کہ بعض برگد، پیپل و جنڈ وغیرہ کو پوجتے ہیں، اس طرح قبروں پر یا نئی عمارت بنانے یا نیا کنواں کھدوانے وغیرہ پر ذبح کرنا یا دیووں، پریوں اور مردہ روحوں کی خوشی حاصل کرنے کے لئے ذبح کرنا شرک -ہے اور یہ ذبیحہ حرام ہے
٣. بدشگونی لینا شرک ہے جیسا کہ جانوروں کی بولیوں سے یا دیگر چیزوں مثلاً اعضا کے پھڑکنے اور چھینک وغیرہ سے لوگ بد فالی لیتے ہیں، نیک فال جائز ہے اور اگر فال پر یقین کیا جائے اور اس کو موثرِحقیقی سمجھا جائے تو کفر ہے ، خواہ وہ فال نیک ہو یا بد، اور اگر ان امور کے موثرِحقیقی ہونے کا -اعتقاد نہ ہو تو کفر نہیں بلکہ فالِ نیک جائز ہے- لیکن فالِ بد پھر بھی منع ہے
٤. آفات سے محفوظ رہنے اور بلائوں سے امن میں رہنے کے لئے دھاگے، منکے، کوڑیاں وغیرہ باندہنا اور ان کو موثرِحقیقی سمجھنا شرک ہے، اگر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے تاثیر کو جانے اور کسی طبیب کے کہنے پر تجربہ کی بنا پر -استعمال کرے تو مضائقہ نہیں
٥. چھوٹی بڑی چیچک یا کسی اور بیماری کی تعظیم کرنا اور اس کو ماتا دیوی ماتا رانی وغیرہ نام رکھ کر ان کی خوشنودی کو اس بیماری کے دفعیے کا ذریعہ سمجھنا سراسر شرک ہے -
٦. تعزیہ بنانا، علم بنانا و چڑھانا
٧. قبروں پر چڑھاوا چڑھانا نذر و نیاز دینا
٨. اللّٰہ تعالٰی کے سوا کسی کے نام کی قسم کھانا
٩. تصویریں بنانا یا تصویروں کی تعظیم کرنا
١٠. کسی پیر یا ولی کو حاجت روا، مشکل کشا کہہ کر پکارنا
١١. کسی پیر کے نام کی چوٹی رکھنا یا محّرم میں اماموں کے نام کا فقیر بننا، قبروں پر میلہ لگانا وغیرہ زندگی میں اور بھی بہت سی رسمیں، بیاہ، شادی اور مرنے وغیرہ کے موقع پر جاہلوں میں رائج ہیں، اور بہت سے کفار کی رسمیں اور تہوار مسلمان بھی کرتے ہیں، ان سب سے پرہیز کرنا لازمی ہے،


پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ