اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


طہارت کا بیان
نماز کی شرطوں میں پہلی شرط بدن کی طہارت یعنی بدن کا پاک ہونا ہے‘ اس کی دو صورتیں ہیں۔
اول نجاست حقیقی سے پاک ہونا اور وہ یہ کہ جسم پر کوئی ظاہری یعنی نظر آنے والی ناپاک چیز ہو تو اس کو پانی سے دھو کر پاک کیا جائے دوم یہ کہ اگرچہ ظاہر میں جسم پر کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی نہ ہو لیکن پھر بھی جسم شرعی حکم سے ناپاک ہو۔ مثلاً کوئی شخص جنابت کی وجہ سے ناپاک ہو اس نے اپنے جسم کی ظاہری نجاست تو دھو ڈالی لیکن جب تک وہ باقاعدہ غسل نہ کرے اس وقت تک اس کا جسم ناپاک رہے گا اور اس شخص کے لئے نماز ادا کرنا اور مسجد میں داخل ہونا جائز و درست نہیں ہے۔ یا کوئی شخص جنبی تو نہیں لیکن بے وضو ہے یعنی پیشاب و پاخانہ کے بعد استنجاء تو کر لیا لیکن وضو نہیں کیا تو یہ شخص بھی شرعاً ناپاک ہے اور اس کو نماز پڑھنا اور قرآن مجید کا چھونا جائز نہیں ہے۔ ایسی نجاست کو نجاست حکمی کہتےہیں یعنی وہ نجاست جو دیکھنے میں نہ آسکے بلکہ شرعیت کے حکم سے ثابت ہوتی ہے اور یہ نجاستِ حکمی دو قسم کی ہے۔
اول بے وضو ہونا اس کو حدث اصغر کہتے ہیں ،
دوم غسل فرض ہونا اس کو حدث اکبر کہتے ہیں،
ان دونوں نجاستوں سے بدن کا پاک ہونا طہارت حکمی کہلاتا ہے اور جسم کا ظاہری یعنی نظر آنے والی نجاست سے پاک ہونا طہارت حقیقی کہلاتا ہے، طہارت حکمی و طہارت حقیقی سے بدن پاک ہونا نماز کے لئے شرط ہے اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اب دونوں قسم کی نجاستوں سے بدن کو پاک کرنے کی تفصیل بیان ہوتی ہے ۔
پہلےحدث اصغر یعنی وضو کا بیان ہو گا، پھر حدث اکبر یعنی غسل کا پھر ان کے ۔لوازمات وغیرہ کا اور پھر نجاست حقیقیہ کا بیان ہو گا



اگلا صفحہ