اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


وضو کی سنّتیں
۔وضو میں تیرہ سنًتیں ہیں
١. وضو کی نیت کرنا۔نیت دل کے ساتھ ہو۔زبان سے بھی کہہ لینا مستحب ہے اس کا وقت منہ دھونے کے وقت یا اس سے پہلے ہے ۔ نیت نماز کی ہو یا ایسی عبادت کی ہو جو بغیر وضو جائز نہیں ہو‘ یا طہارت حاصل کرنے یا اللّٰہ ۔تعالٰی کی رضا اور ثواب کی نیت ہو
٢. بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمَ پڑھنا۔کوئی ذکر الہی مثلاً لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہَ یا اَلحَمدُ لِلّٰہِ وغیرہ پڑھ لے تو سنت ادا ہو جائے گی‘ اگر شروع میں پڑھنا بھول گیا تو جہاں یاد آئے پڑھ لینا افضل ہے‘ لیکن سنت ادا نہ ہو گی ۔
٣. وضو شروع کرتے وقت پہلے دونوں ہاتھوں کو کلائیوں تک تین بار دھونا جبکہ پاک ہوں اور اگر ناپاک ہوں تو دھونا فرض ہے ۔
٤. مسواک کرنا
٥. تین بار کلًی کرنا اور ہر دفعہ جدا پانی لینا سنت ہے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو پانی پہچانے میں مبالغہ کرنا یعنی غرغرہ کرنا افضل ہے۔ ایک ہی دفعہ کے پانی یعنی ایک ہی چلو سے تین بار کلًی کرنا جائز ہے ۔
٦. ناک میں تین بار پانی ڈالنا‘ ہر بار جدا پانی لے‘ ایک ہی چلو سے تین بار ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں‘ اگر روزہ دار نہ ہو تو اس میں مبالغہ کرنا یعنی ناک میں نرم حصہ تک پانی پہچانا اور ترتیب یعنی پہلے کلًی کرنا پھر ناک میں پانی ڈالنا افضل ہے ۔
٧. داڑھی کا خلال کرنا جبکہ داڑھی گنجان ہو اور وہ شخص احرام کی حالت میں نہ ہو‘ خلال کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر داڑھی کے نیچے کے بالوں کی جڑوں میں ڈالے اور داڑھی میں انگلیاں ڈال کر نیچے کی جانب سے اوپر کو خلال کرے اور اس طرح کہ ہاتھ کی پشت گردن کی طرف رہے یعنی انگلیوں کی پشت بالوں کے ساتھ لگے اور ہتھیلی باہر کی جانب رہے ۔ بعض کے نزدیک اس کی ترکیب یہ بھی ہے کہ بالوں کے نیچے سے انگلیاں اس طرح داخل کرے کہ ہتھیلی گردن کی طرف ہو اور ہاتھ کی پشت باہر کی طرف ہو تاکہ چلو کا پانی بالوں میں داخل ہو سکے۔حدیث شریف کے الفاظ سے یہی ۔صورت متبادر ہو تی ہے
٨. ہاتھ پائوں کی انگلیوں کا خلال کرنا‘ ہاتھوں کی انگلیوں کے خلال کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالے اور پانی ٹپکتا ہوا ہو یہی طریقہ اولٰی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک ہاتھ کی ہتھیلی اس ہاتھ کی پشت پر جس کا خلال کرنا ہے رکھ کر اوپر کے ہاتھ کی انگلیاں نیچے کے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر کھینچے اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کا خلال کرے۔ پائوں کے خلال اس طرح کرے کہ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا کے ذریعہ پائوں کی انگلیوں کے نیچے سے اوپر کو خلال کرے اور دائیں پائوں کی چھنگلیا سے شروع کر کے بائیں پائوں کی چھنگلیا پر ختم کرے ۔ پانی میں ہاتھ یا پائوں داخل کر دینا خلال کے لئے کافی ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو۔ اگر انگلیاں ۔بلکل ملی ہوئی ہوں تو خلال واجب ہے
 ٩. وضو کے ہر عضو کو تین تین بار دھونا اس طرح پر کہ ہر دفعہ کچھ بھی خشک نہ رہے یعنی ہر دفعہ پوری طرح دھونا۔ تین بار سے زیادہ نہ دھوئے
١٠. تمام سر کا ایک دفعہ مسح کرنا یعنی بھیگا ہوا ہاتھ پھیرنا۔
١١. دونوں کانوں کا مسح کرنا
١٢. ترتیب سے وضو کرنا یعنی جس ترتیب سے فرائض میں بیان ہوا
١٣. وضو کے اعضاء کا پے درپہ دھونا اس طرح کہ پہلا عضو خشک ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھونے لگنا، خشک ہونے کا اعتبار معتدل موسم کے مطابق ہو گا عذر کے ساتھ توقف ۔ جائز ہے یعنی اگر پانی ختم ہو گیا تو اس کے لئے جائے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ