اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


مکروہات وضو
اصول یہ ہے کہ جو چیزیں مستحب ہیں ان کے خلاف کرنا مکروہ ہے اسی طرح جو چیزیں مکروہ ۔ ہیں ان سے بچنا مستحب ہے‘ کچھ مشہور مکروہات درج ذیل ہیں
١. ناپاک جگہ پر وضو کرنا یا ناپاک جگہ پر وضو کا پانی ڈالنا
٢. کلی کے لئے بائیں ہاتھ سے پانی لینا
٣. بائیں ہاتھ سے ناک میں پانی ڈالنا
٤. بلا عذر دائیں ہاتھ سے نال صاف کرنا یا استنجائ کرنا
٥. منھ پر سختی سے یعنی تمانچہ کی طرح پانی مارنا
٦. پانی اس قدر کم خرچ کرنا کہ مستحب طریقہ پر وضو ادا نہ ہو
٧. پانی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا
٨. تیں بار سے زیادہ اعضائ کو دھونا
٩. تین بار نیا پانی لے کر مسح کرنا
١٠. وضو کے اعضائ کے علاوہ کسی اور عضو کو بلا ضرورت دھونا
١١. وضو کرنے میں بلا ضرورت دنیاوی باتیں کرنا
١٢. وضو کے بعد ہاتھوں کا پانی جھٹکنا
١٣. مسجد میں اپنے لئے کسی پرتن کو خاص کرلینا
١٤. عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا
١٥. وضو کے پانی میں تھوکنا یا ناک صاف کرنا خواہ وہ جاری پانی ہو
١٦. مسجد کے اندر وضو کرنا
١٧. لوٹے یا کپڑے وغیرہ پر اعضائ وضو سے پانی ٹپکانا
١٨. بلا عذر ایک ہاتھ سے منھ دھونا
١٩. گلے (حلقوم) کا مسح کرنا
٢٠. دھوپ کے گرم پانی سے وضو کرنا
٢١. ہونٹ یا آنکھیں زور سے بند کرنا
٢٢. وضو کے لئے بلا عذر کسےدوسرے سے مدد لینا
٢٤. سنت طریقے کے خلاف وضو کرنا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ