اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


وضو کا مسنون اور مستحب طریقہ
جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو وضو کے لئے مٹی کے کسی پاک صاف برتن میں پاک پانی لے کر پاک و صاف اونچی جگہ پر بیٹھے ( اگر تانبہ پیتل کا برتن ہو تب بھی مضائقہ نہیں مگر تانبہ کا پرتن قلعی دار ہے) قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے تو اچھا ہے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تے کچھ حرج نہیں‘ آستیں کہنیوں سے اوپر تک چڑھا لے اور دل میں یہ نیت کرے کہ میں یہ وضو خالص اللہ تعالی کی رضا اور ثواب اور عبادت کے لئے کرتا ہوں محض بدن کا صاف کرنا اور منہ کا دھونا مقصود نہیں ہے‘ نیت زبان سے بھی کہ لے اور یہی ارادہ و نیت ہر عضے کو دھوتے وقت یا مسح کرتے وقت حاضر رہے۔ وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم ط کہے اور دائیں چلو میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو کلائی تک مل کر دھوئے اور اس طرح تین بار کرے پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لےکر کلی کرے پھر مسواک کرے‘ مسواک نہ ہو تو انگلی سے دانت مل لے‘ پھر دو کلیاں اور کر لے‘ تاکہ پوری تیں ہو جائیں زیادہ نہ کرے‘ اگر روزہ دار نہ ہو تو اسی پانی سے غرارا بھی کرے یعنی کلی میں مبالغہ کرےلے اور اگر روزہ دار ہو تو مبالغہ نہ کرے‘ پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر ناک میں پانی ڈالے‘ اگر روزہ دار نہ ہو تو اس میں مبالغہ کرے یعنی نتھنوں کی جڑوں تک پانی پہچائے‘ اور اگر روزہدار ہو تونرم گوشت سے اوپر پانی نہ چڑھائے‘ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا نتھنوں میں پھیرے اور بائیں ہاتھ سے ہی ناک صاف کرے‘ تین بار ناک میں پانی ڈالے اور ہر بار نیا پانی لے‘ پھر دونوں ہاتھ میں پانی لے کر یا ایک چلو میں پانی لے کر پھر دوسرے کا سہارا لگا لے اور دونوں ہاتھوں سے ماتھے کے اوپر سے نیچے کو پانی ڈالے‘ پانی نرمی سے ڈالے تمانچہ سا نہ مارے اور تمام منہ کو مل کر دھوئے‘ پیشانی یعنی سر کے بالوں کی ابتدائ سے ٹھوری کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک سب جگہ پانی پہچ جائے‘ دونوں ابرووں اور مونچھوں کے نیچے بھی پانی پہچ جائے کوئی جگہ بھی بال برابر بھی خشک نہ رہے‘ اگر احرام باندھے ہوئے نہ ہو تو داڑھی کا خلال کرے پہر دو دفعہ اور پانی لے کر منہ کو اسی طرح دھوئے اور داڑھی کا خلال کرے تاکہ تین بار پورا ہے جائے اور اس سے زیدہ نہ دھوئے‘ پھر گیلے ہاتھوں سے دونوں ہاتھوں کی کہنیوں تک ملے‘خصوصاً سردیوں میں اور پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی ہر ایک ہاتھ پر تیں تیں دفعہ پانی ڈالے یعنی پہلے دائیں ہاتھ پر پھر بائیں ہاتھ پر کہنیوں سمیت پانی ڈالے اور مل کر دھوئے کہ بال برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہنے پائے‘ انگےٹھی‘ چھلا‘ آرسی‘ کنگن اور چوڑی وغیرہ کو حرکت دے اگرچہ ڈھیلی ہوں۔ منہ دھوتے وقت عورت اپنی نتھ کو بہی حرکت دے‘ پھر انگلیوں کا خلال کری اسطرح کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالے اور پانی ٹپکتا ہوا ہو‘ پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو تر کرے اور ایک مرتبعہ پورے سر کا مسح کرے پھر کانوں کا مسح کرے ‘ کلمہ کی انگلی سے کان کے اندر کی طرف اور انگوٹھے سے باہر کی طرف اور دونوں چھنگلیا دونوں کانوں کے سوراخ میں ڈالے پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کرے لیکن گردن کا مسح نہ کرے‘ مسح صرف ایک دفعہ کرنا چاہئے۔ پھر دونوں پائوں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھوئے اور ہر بار اس کی انگلیوں کا خلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے نیچے سے اوپر کو کرے‘ پائوں کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور اس کے انگوٹھے پ ختم کرے پھر اسی طرح دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے بایاں پائون ٹخنوں سمیت تین بار دھوئے اور ہر بار اس کی انگلیوں کو بھی ۔اسی طرح خلال اور اس کے انگوٹھے سے شروع کر کے چہنگلیا پر ختم کرے ہر عضے کو دھوتے یا مسح کرتے وقت بسماللہ اور کلمہ شہادت پڑھ کر یہ دعا پڑھے اللھم اجعلنی من التوابین اور سورk القدر اور درود شریف پڑھے اور اس کے بعد اگر نماز کا مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز تحت الوضو پڑھے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ