اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


وضو کے متفرق مسائل
اگر وضو کی نیت نہ کی مثلاً کوئی شخص دریا میں گر گیا یا بارش میں کھڑا رہا اور تمام اعضائ وضو پر سے پانی بہ گیا تو وضو ہو جائے گا یعنی اس سے نماز پڑھ لینا جائز ہےلغکن وضو کی نیت نہ کرنے سے وضو کا ثواب نہیں ملے گا ۔ دھونے کی حد یعنی جسے دھونا کہ سکیں یہ ہے کہ پانی عضو پر بہ کر ایک دو قطرے ٹپک جائیں‘ یہ دھونے کی ادنٰی مقدار ہے اس سے کم کو دھونا نہیں کہتے۔ پس اگر ہاتہ بھگو کر منہ پر پھیر لیا یا اسقدر تھوڑا پانی منہ پر ڈالا کہ وہ منہ وغیرہ پر ہی رہ گیا ٹپکا نہیں تو اس کا وضو صحیح ۔نہیں ہو گا ۔ جن اعضائ کا وضو میں دھونا فرض ہے ان کا ایک دفعہ دھونا فرض ہےاور اس سے زیادہ یعنی دو دفعہ دھونا سنت ہے تاکہ یہ مل کر تین دفعہ ہو جائےاور تین مرتبہ سے زائد دھونا ناجائز اور ۔مکروہ ہے ۔ جن اعضائ کا دھونا فرض ہے ان میں سے ایک بال بربر بھی خشک رہ جائے تو وضو درست نہ ہو ۔گا ۔ اگر کسی آدمی کے چھ انگلیان ہو تو چھٹی انگلی کا دھونا فرض ہے۔ اور اسی طرح جو چیز زیادہ پیدا ہو جائے اور اس مقام کے اندر ہو جس کا دھونا فرض ہے تو اس زائد کا دھونا بھی فرض ہو جاتا ۔ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ