اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


مسواک کے مستحبات و طریقہ
مسواک کسی کڑوے درخت کی جڑ یا لکڑی کی ہونی چاہئے۔ پیلو کی جڑ یا نیم و کیکر و پھلاہی وغیرہ کی شاخ ہو۔ زہریلے درخت کی نہ ہو۔چھنگلیا کے برابر موٹی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی ہو۔ انگوٹھے سے زیادہ موٹی اور بالشت سے زیادہ لمبی نہ ہو۔ اتنی چھوٹی بھی نہ ہو کہ اس کا کرنا دشوار ہو جائے۔ مسواک نہ بہت نرم ہو نہ بہت سخت درمیانے درجہ کی ہو۔ سیدھی ہو گرہ دار نہ ہو۔ دائیں ہاتھ میں اس طرح پکڑنا مستحب ہے کہ چھنگلیاں نیچے اور انگوٹھا برابر میں اور باقی تین انگلیاں اوپر رہیں۔ مٹھی باندھ کر نہ پکڑیں تین مرتبہ مسواک کرنا اور ہر مرتبہ نیا پانی لینا چاہئے۔اول اوپر کے دانتوں پر داہنی طرف سے ملتے ہوئے بائیں طرف لے جائیں اور پھر اسی طرح نیچے کے دانتوں میں ملیں۔ اس طرح تین بار کریں اور ہر بار دھو لیں۔ زبان اور تالو بھی صاف کریں۔ مسواک کو دانتوں کی چوڑائی کے رخ پھرائیں یعنی منھ کی لمبائی میں پھرائیں۔ دانتوں کے طول میں یعنی اوپر سے نیچے کو نہ ملیں کیونکہ اس سے مسوڑھوں کی جڑوں کے چھلنے اور خون نکلنے کا اندیشہ ہے۔ مسواک کو دھو کر شروع کریں اور استعمال کے بعد دھو کر دیوار وغیرہ کے ساتھ اس طرح کھڑی رکھیں کہ ریشہ کی جانب اوپر ہو۔ یوں ہی لٹا کر نہ رکھیں۔ مسواک کا وقت وضو سے پہلے یا کلی کے وقت ہے۔ اگر لکڑی کی مسواک نہ ملے تو دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت سے دانتوں کو ملنا مستحب ہے یا موٹے کپڑے سے دانت صاف کر لیں کہ سب میل کچیل جاتا رہے ۔



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ