اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


غسل کے مستحبات اور آداب
١. زبان سے بھی نیت کہ لے مستحسن و بہتر ہے
٢. پانی کے استعمال میں بےجا کمی یا زیادتی نہ کرنا ۔
٣. ننگا ہونے کی حالت میں قبلہ کی طرف منہ نہ کرنا ۔
٤. بلا ضرورت کسی سے بات نہ کرنا ۔
٥. ایسی جگہ نہانا جہاں کوئی نہ دیکھے یا تہبند وغیرہ باندھ کر نہانا ۔
٦. تمام بدن کا ملناک بعض نے اس کو سنن میں شمار کیا ہے۔اور وضو مین اعضا کے ملنے کا سنت ہونا اس کی تائید کرتا ہے ۔
٧. تواتر یعنی پے درپے دہونا اس طرح کہ معتدل موسم میں ایک حصہ خشک ہونے سے پہلے دوسرا حصہ دھو ڈالے ۔
٨. تمام جسم پر تین مرتبہ پانی بہانا یعنی ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے اور ۔مزید دو مرتبہ سنت ہے۔یہ مل کر تین مرتبہ ہوا
٩. غسل کے بعد کسی پاک و صاف کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے ۔
١٠. نہانے کے بعد فوراً کپڑے پہن لے ۔
١١. جو چیزیں وضو میں سنت و مستحب ہیں وہ غسل میں بھی سنت و مستحب ہیں سوائے قبلہ رو ہونے کے جبکہ ننگا نہاتا ہو اور اگر کپڑا باندھ کر نہائے تو قبلہ رو ہونے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے۔سوائے دعائین پڑھنے اور غسل کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینے کے کہ یہ امور مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہیں اور سوائے ترتیب کے غسل کی اپنی ترکیب ہے جو وضو سے مختلف ہے ۔

غسل کے مکروہات
غسل کے مکروہات وضو کے مکروہات کی طرح ہیں ۔ ان کے علاوہ کچھ مکروہات یہ ہیں:۔
١. ننگا نہاتے وقت قبلہ رو ہونا ۔
٢. بلا عذر غیر محرم کے سامنے نہانا ۔
٣. دعائوں کا پڑھنا ۔
٤. ستر کھلے ہوئے بلا ضرورت کلام کرنا ۔
٥. پانی زیادہ بہانا ۔
٦. سنت کے خلاف غسل کرنا ۔



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ