اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


اقسام غسل
غسل کی چار قسمیں ہیں
١. فرض
٢. واجب
٣. سنت
٤. مستحب

فرض غسل
فرض غسل چھ ہیں
١. شہوت کے ساتھ منی نکلنے پر خواہ سوتے میں ہے یا جاگتے میں۔ خواہ بیہوشی میں ہو یا ہوش میں۔ جماع سے ہو یا بغیر جماع کے کسی خیال و تصور وغیرہ سے ہو ۔
 ٢. زندہ عورت کے پیشاب کے مقام میں یا زندہ مرد و عورت کے پاخانہ کے مقام میں کسی باشہوت مرد کے حشفے کے داخل ہونے پر خواہ انزل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ( یہ دونوں قسم کا غسل غسلِ جنابت کہلاتا ہے) ۔
٣. حیض سے پاک ہونے پر ۔
٤. نفاس سے پاک ہونے پر ۔
٥. میت کا غسل اور یہ زندہ پر واجب علی الکفایہ ہے ۔
٦. سارے بدن پر نجاست لگنے یا بدن کے بعض حصہ پر نجاست لگنے سے جب نجاست کا مقام معلوم نہ ہو ۔

واجب غسل
واجب غسل تین ہیں
١. جب کوئی جنبی کافر مسلمان ہو۔یعنی جب کوئی مرد یا عورت جبکہ جنابت کا غسل اس پر باقی ہو اور وہ مسلمان ہو جائے یا عورت پر حیض و نفاس کا غسل باقی ہو اور وہ مسلمان ہو جائے ۔
٢. نابالغہ لڑکی پندرہ سال کی عمر سے پہلے حیض سے بالغ ہوئی ہو تو حیض سے پاک ہونے پر احتیاطاً اس پر غسل واجب ہو گا اور اس کے بعد جو حیض آتے رہیں گے ان سے پاک ہونے پر غسل فرض ہو گا
٣. ایسے ہی لڑکا پندرہ سال کی عمر سے پہلے احتلام کے ساتھ بالغ ہواور اُسے پہلا احتلام ہو تو اس پر احتیاطاً غسل واجب ہے اور اس کے بعد جو احتلام ہے گا اس سے غسل فرض ہو جائے گا اور اگر عمر کے لحاظ سے بالغ ہوا یعنی پندرہ سال کی عمر کے بعد احتلام ہوا تو اس پر غسل فرض ہے فائدہ واجب غسل سے مراد فرضِ عملی ہے اس لئے بعض نے ان سب کو فرض غسل میں شمار کیا ہے۔اس طرح میت کا غسل اور سارے بدن پر نجاست لگنے یا بعض حصہ پر لگنے اور جگہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنا بھی فرضِ ۔عملی ہے اس لئے بعض نے ان دونوں کو بھی واجب میں شمار کیا ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ