اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


غسل متفرقات
متفرقات
١. جنبی کو نماز کے وقت تک غسل میں تاخیر جائز ہے اس سے وہ گناہگار ۔نہیں ہو گا
٢. جنبی بغیر غسل کو سوئے یا پہر وطی کرے تو جائز ہے البتہ وضو کر لینا بہتر ہے۔
٣. جنبی کو وضو کرنے یا ہاتھ منھ دہونے اور کلی کرنے کو بعد کہانا پینا مکروہ نہیں بغیر اس کے ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ نہیں لیکن مکروہ ہے ۔
٤. غسل کے لئے کم سے کم ایک صاع یعنی تقریباً چار سیر پانی ہونا چاہئےاور وضو کے لئے ایک مُدّ یعنی ایک سیر۔لیکن یہ مقدار لازمی نہیں کیونکہ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔
٥. مرد و عورت ایک برتن سے غسل کریں تو مضائقہ نہین ۔
٦. اگر فرض غسل کی حاجت ہو اور دریا میں غوطہ لگائے یا بارش میں کھڑا ہو جائے یا بڑے حوض میں گر پڑے اور اس کے تمام بدن پر پانٹ بہہ جائے اور وہ کلی کر لے اور ناک مین پانی ڈال لے تو اس کا غسل ہو جائے گاچاہے غسل کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو ۔
٧. اگر بدن مین بال بھر بھی جگہ خشک رہ گئی تو غسل نہیں ہو گا۔لیکن اب اس کو پھر نہانا واجب نہیں صرف خشک جگہ پانی بہا لینا چاہئے صرف گیلا ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے اور کلی یا ناک میں پانی ڈالنا ترک ہونے کی صورت ۔ میں صرف کلی یا ناک میں پانی ڈالنا کافی ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ