اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


جن سے کنوئیں کا تمام پانی ناپاک ہو جائے
١. اگر کنوئیں میں نجاستِ غلیظہ یا خفیفہ گر جائے تو تمام پانی ناپاک ہو جائے گا خواہ وہ نجاست تھوڑی ہو یا بہت۔اور خواہ کسی چیز کے ساتھ لگ کر گری ہو یا صرف نجاست گری ہو ہر حال میں کنوئیں کا تمام پانی ناپاک ہو ۔جائے گا ٢. جس جانور میں بہتا ہوا خون ہوتا ہو اور وہ خشکی کا رہنے والا ہو ۔ اگر وہ کنوئیں میں گر جائے تو اس کے تین درجہ ہیں۔
اول: بکری یا اس کی مثل
دوم: بلی اور اس کی مثل۔
سوم: چوہا اور اس کی مثل۔
پس جو جانور بکری کے برابر یا اس سے بڑے ہوں وہ بکری کے حکم میں ہیں۔ ایسے کسی جانور کے کنوئیں میں گر کر مر جانے سے کنوئیں کا تمام پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔اگرچہ وہ پھولا یا پھٹا نہ ہو۔اور اگر مر کر پانی میں گرے تب بھی یہی حکم ہے۔جو جانور بلی کے برابر یا اس سے بڑے ہوں مگر بکری سے چھوٹے ہوں وہ بلی کے حکم میں ہیں اور جو جانور چوہے کے برابر یا اس سے بڑے ہوں مگر بلی سے چھوٹے ہوں وہ چوہے کے حکم میں ہیں۔ان دونوں قسم کے جانوروں میں سے کوئی جانور کنوئیں میں گر کر مر جائے یا باہر سے گر کر مرے تو جب تک پھول یا پھٹ نہ جائے اس وقت تک کنوئیں کا تمام پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ بلکہ کچھ حصہ ناپاک ہوتا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے اور جب پھول جائے یا پھٹ جائے تو تمام پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔اسی طرح اس کے بال یا پائوں یا دم یا کوئی اور حصہِ جسم جدا ہو کر کنوئیں میں گر پڑے یا کنوئیں میں گرتے وقت کٹ جائے تو اس کے گرتے ہی تمام پانی ناپاک ہو جائے گا۔ پھولنے کی پہچان یہ ہے کہ پانی میں رہ کر اس کا جسم اصلی حجم سے بڑھ جائے اور پھٹنے کی پہچان یہ ہے کہ اس کے بال گر گئے ہوں یا جسم پھٹ گیا ہو۔ باہر سے پھول کر یا پھٹ کر گرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر کنوئیں سے مرا ہوا چوہا یا کوئی اور جانور نکلا اور یہ معلوم نہیں کہ کب گرا ہے تو فتویٰ اسی پر ہے کہ جب دیکھا جائے اس وقت سے کنواں ناپاک سمجھا جائے گا۔اس سے پہلے کے نماز و وضو سب درست ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ اگر وہ جانور ابھی پھولا یا پھٹا نہیں تو جن لوگوں نے اس کنوئیں سے وضو کیا ہے وہ دن رات کی نمازیں دہرئیں اور اس پانی سے جو کپڑے دھوئے ہیں ان کو پھر سے دہونا چاہئے اور اگر پھول گیا ہو یا پھٹ گیا ہو تو تین دن رات کی نمازیں دہرانا چاہیے۔البتہ جن لوگوں نے اس پانی سے وضو نہیں کیا وہ ۔نہ دہرائیں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ