اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


جن صورتوں مین پانی نجس نہیں ہوتا
١. چمگادڑ کے پیشاب اور بیٹ سے پانی و کپڑا نجس نہیں ہوتا
٢. جس جانور میں بہتا ہوا خون نہیں ہے جیسے مکھی۔مچھر۔بھڑ۔چیونٹی ۔و بچھو وغیرہ پانی میں مر جائے تو پانی نجس نہیں ہو گا
٣. جو جانور پانی میں پیدا ہوتے ہیں اور رہتے ہیں ان کے پانی میں مرنے سے بھی پانی ناپاک نہیں ہوتا جیسے مچھلی۔مینڈک اور کیکڑا۔اس مین فرق نہیں کہ وہ پانی میں مرے یا باہر مرے پھر پانی میں ڈالدیں۔اگر پھول یا پھٹ جائے تب بھی ۔یہی حکم ہے مگر وہ پانی پینا مکروہ ہے
٤. جو جانور پیدائشی پانی کے نہ ہوں مگر وہ پانی میں رہتے ہوں جیسے ۔بطخ۔مرغابی وغیرہ ان کے پانی میں مرنے سے پانی ناپاک ہو جاتا ہے
٥. خنزیر کے سوا ہر جاندار کے بال ہڈی۔پٹھا۔کھر(سم) چرا ہوا یا بے چرا پاک ہیں۔ جبکہ ان پر چکنائی نہ لگی ہو ورنہ چکنائی کی وجہ سے ناپاک ہوں گے۔آدمی کے بال ہڈی کا بھی یہی حکم ہے جبکہ بال منڈھے ہوئے یا کٹے ہوئے ہوں اگر اکھڑے ہوئی ہوں تو نجس ۔ہوں گے
٦. اصح یہ ہے کہ مشکِ نافہ ہر حالت میں پاک ہے اور ذبح کئے ہوئے ۔جانور کا مشک نافہ بالاتفاق پاک و حلال ہے
٧. خنزیر کے تمام اجزا نجس ہیں
٨. جس پرندہ کا گوشت حرام ہے اس کی بیٹ کنوئیں میں گرے تو دفع حرج کے ۔سبب پاک ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ