اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


پانی ۔ متفرقات
١. وہ کوزہ جو گھر میں زمین پر اس لئے رکھ دیتے ہیں کہ ان سے مٹکوں میں سے پانی نکالیں گے تو ان سے پانی پینا اور وضو کرنا جائز ہے۔ جب تک یہ ۔معلوم نہ ہو کہ ان پر نجاست لگی ہے
٢. ایسے حوض سے وضو و غسل جائز ہے جس کے متعلق یہ گمان ہو کہ اس میں نجاست پڑی ہو گی مگر یقین نہ ہو اور اس پر یہ واجب نہیں کہ اس کا حال پوچھے اور جب تک اس میں نجاست ہونے کا یقین نہ ہو جائے اس سے ۔وضو کرنا ترک نہ کرے
٣. اگر جنگل میں تھوڑا پانی مل ا تو جب تک اس کی نجاست کا یقین نہ ہو اس میں سے پانی لے کر وضو کرنا جائز ہے۔ صرف اس وہم پر وضو نہ چوڑے کہ شاید یہ نجس ہو۔اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں ہے۔ اور اگر اس کا ہاتھ نجس ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے اس میں سے پانی نکال سکے تو پاک رومال وغیرہ پانی میں ڈال کر تر کرے اور رومال سے پانی ہاتھ پر ہاتھ کو پاک کر لے ۔
٤. اگر بچے یا بڑے آدمی جاہل و کافر وغیرہ ڈول یا رسی پر ہاتھ لگاتے ہیں تو جب تک نجاست کا یقین نہ ہو ڈول اور رسی پاک ہے۔اگر کوئی کافر یا کوئی بچہ اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی نجس نہیں ہوتا لیکن اگر معلوم ہو جائے کہ اس کے ہاتھ میں نجاست لگی ہوئی تھی تو ناپاک ہو جائے گا لیکن چھوٹے بچہ کے ہاتھ کا اعتبار نہیں۔اس لئے جب تک کوئی اور پانی نہ ملے اس کے ۔ہاتھ ڈالے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا بہتر ہے اگر کر لے تو جائز ہے
٥. جب پانی نجاست کے پڑنے سے نجس ہو جائے اگر اس کے تینوں اوصاف یعنی رنگ و بو و مزہ بدل جائیں تو اس کو کسی طرح کام میں نہ لائے۔ جانوروں کو پلانا اور مٹی ڈال کر گارا بنانا بھی جائز نہیں اور وہ پیشاب کی طرح نجس ہو گا اور اگر تینوں اوصاف نہیں بدلے تو اس میں سے جانوروں کو پلانا اور مٹی بھگو کر گارا بنانا اور مکان میں چھڑکائو کرنا جائز ہے مگر وہ گارا مٹی مسجد ۔کی دیواروں وغیرہ پر نہ لگائی جائے ۔



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ