اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


تیمم کے ارکان
تیمم کے دو رکن ہیں
١. دو ضربیں یعنی دو دفعہ خشک و پاک مٹی یا مٹی کی جنس کی چیز پر دونوں ۔ہاتھ مارنا
٢. مسح کرنا یعنی ایک ضرب سے منہ ( چہرے) کا مسح کرے اور دوسری ضرب سے دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرے ، ایک ہی ضرب سے منھ اور ہاتھوں پر مسح کرنا جائز نہیں ، اگر ایک ہاتھ سے منھ کا مسح کیا اور دوسرے ہاتھ سے ایک ہاتھ کا مسح کیا تو منھ اور ہاتھ کا مسح جائز ہو گا اور اس کو چاہئے کہ دوسرے ہاتھ کے لئے دوسری ضرب لگائے مگر یہ خلاف ۔سنت ہے ، تیمم میں سر اور پائوں کا نہیں ہے

تیمم کی سنتیں
تیمم کی سات سنتیں ہیں
١. ہاتھوں کو مٹی پر رکھ کر آگے کو لانا ،
٢. پھر پیچھے کو لیجانا
٣. پھر ان کا جھاڑنا
٤. انگلیوں کو کھلا رکھنا تاکہ ان میں گردوغبار آ جائے
٥. شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا ،
٦. ترتیب کا لحاظ رکھنا
٧. پے درپے تیمم کرنا سنت سے مراد یہاں مستحب ہے ،

کچھ اور بھی مستحب ہیں مثلاً
١. ہتھیلیوں کی اندرونی سطح سے تیمم کرنا ،
٢. پہلے دائیں عضو کا مسح کرنا پھر بائیں کا ،
٣. مٹی سے تیمم کرنا نہ کہ اس کی ہم جنس سے ،
٤. منھ کے مسح کے بعد داڑھی کا خلال کرنا،
٥. مسنون طریقہ سے مسح کرنا ،
٦. دونوں ہاتھوں کا مٹی پر مارنا تاکہ مٹی انگلیوں کے اندر پہچ جائے اب کل تیرہ سنتیں ہو گئیں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ