اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


موزوں پر مسح کرنا
موزوں پر مسح کرنا رخصت ( جائز) ہےاور پائوں کا دھونا عزیمت ( افضل) ہے ۔ اگر اس کو جائز جان کر عزیمت اختیار کرے تو اولٰی ہے ۔جو چیزیں موزوں پر مسح جائز ہونے کیلئے ضروری ہیں
١. موزہ ایسا ہو کہ اس کو پہن کر سفر کر سکے اور مسلسل تین میل چل سکے اور پائوں ٹخنوں سمیت ڈھک جائے۔ اگر موزہ اتنا چھوٹا ہو کہ ٹخنے موزہ کے اندر چھپے ہوئے نہ ہوں تو اس پر مسح درست نہیں ، پس موزہ میں یہ چار وصف ہونے چاہیے ۔
٢. ایسے دبیز ہوں کہ بغیر کسی چیز سے باندھے پیروں پر ٹھر جائیں
٣. ان کو پہن کر تین میل یا اس سے زیادہ پیدل چل سکے
٤. ان کے نیچے کی جلد نظر نہ آئے
٥. پانی کو جذب نہ کرتے ہوں یعنی اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو ان کے نیچے کی سطح تک نہ پہچے پس تین قسم کے موزوں پر مسح جائز ہے
اول: چمڑے کے موزہ جن سے پائوں ٹخنوں تک چھپے رہیں
دوم: اونی یا سوتی موزے جن میں چمڑے کا تلا مردانہ ہندی جوتے کی شکل ۔پر لگا ہوا ہے
سوم: وہ اونی یا سوتی موزے جو اس قدر گاڑھے یا موٹے ہوں کہ خالی موزہ پہن کر تین میل راستہ پیدل چلنے سے نہ پھٹیں اور پنڈلی پر بغیر باندھے تھمے رہیں اور نیچے کی جلد نظر نہ آئے اور اس میں پانی نہ چھنے۔ موزوں کے کے نیچے اگر کپڑے وغیرہ کی جراب پہنے ہوئے ہو تب بھی موزوں پر مسح جائز ہے ، کپڑے وغیرہ کی جرابوں پرمسح کرنا درست نہیں ، لیکن اگر مردانہ جوتے کی شکل پر چمڑا چڑھایا گیا ہو یا وہ بہت سخت اور موٹی ہوں جیسا اوپر بیان ۔ہوا تب ان پر مسح جائز ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ