اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


استحاضہ کا بیان
جو خون حیض اور نفاس کی صفت سے باہر ہو وہ استحاضہ ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اس میں بدبو نہیں ہوتی اور حیض اور نفاس کے خون میں بدبو ہوتی ہے اور استحاضہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں
١. ایام حیض میں جو خون تین دن سے کم ہو ،
٢. ایام حیض میں جو خون دس دن سے زیادہ ہو ،
٣. جو خون نفاس چالیس دن سے زیادہ ہو ،
٤. جو حیض و نفاس عادت مقررہ سے زیادہ ہو اور اپنی اکثر مدت یعنی دس دن اور چالیس دن سے زیادہ ہو جائے ،
٥. حاملہ کا خون دوران حمل میں چاہے جتنے دن آئے ،
٦. نو برس سے کم عمر کی لڑکی کو جو خون آئے ،
٧. پچپن برس سے زیادہ ہو جانے پر جو خون آئے بشرطیہ وہ قوی نہ ہو یعنی زیادہ سرخ و سیاہ نہ ہو ،
٨. پندرہ روز سے کم وقفہ ہونا ،
٩. پاخانہ کے مقام سے جو خون آئے ،
١٠. ولادت کے وقت آدھا بچہ یا اس سے کم آنے پر جو خون نکلے لیکن نصف سے زیادہ بچہ نکلنے کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس ہو گا ،
١١. بالغ ہونے پر پہلی دفعہ حیض آیا اور وہ بند نہیں ہوا تو ہر مہینہ میں پہلے دس روز حیض کے شمار ہوں گے اور بیس روز استحاضہ شمار ہوں گے اسی طرح جس کو پہلی دفعہ نفاس آیا اور خون بند نہیں ہوا تو پہلے چالیس روز ۔نفاس شمار ہو گا اور باقی استحاضہ



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ