اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


وہ احکام جو حدث اکبر کے ساتھ مخصوص ہیں
سوم: وہ احکام جو حدث اکبر کے ساتھ مخصوص ہیں
١. مسجد میں داخل ہونا حرام و ممنون ہے خواہ گزرنے کے لئے ہو لیکن اگر کوئی سخت ضرورت ہو تو جائز ہے مثلاً مسجد کے اندر پانی ہو اور باہر کہیں پانی نہ ملے یا درندے یا چور یا سردی کا خوف ہو یا کسی کے گھر کا دروازہ مسجد میں ہو اور اس کے نکلنے کا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ ہو اور وہ اس کو تبدیل نہ کر سکتا ہو اور نہ وہاں کے سوا کسی دوسری جگہ رہ سکتا ہو تو اس کو مسجد میں جانا جائز ہے لیکن اس کو دخول مسجد کے لئے تیمم کرنا واجب ہے بخلاف اس شخص کے جس کو مسجد میں احتلام ہو جائے اور وہ اس وقت مسجد سے باہر نکل جائے تو اس کے تیمم کر کے نکلنا مستحب ہے واجب نہیں لیکن اگر کسی خوف وغیرہ کی وجہ سے اس کو مسجد میں ٹھرنا پڑے تو اب اس کو تیمم کرنا واجب ہے ،
٢. خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کے اندر داخل ہونا اور خانہ کعبہ کا طواف کرنا حرام ہے اگرچہ طواف مسجد کے باہر سے کرے ،
٣. عیدگاہ و جنازہ گاہ مدرسہ و خانقاہ وغیرہ میں جانا جائز ہے ،
٤. قرآن مجید پڑھنا حرام ہے تلاوت کی نیت سے ذرا سا بھی نہ پڑھیں لیکن جن آیتوں میں اللّٰہ تعالی کی ثنا یا دعا کا مضمون ہو اگر ان کو قرائت کے ارادے سےنہ پڑھے بلکہ ثنا یا کام شروع کرنے یا دعا یا شکر کے ارادے سے پڑھے تو جائز ہے مثلاً شکر کے ارادے سے الحمد اللّٰہ کہے یا کھانا کھاتے وقت بسم اللّٰہ پڑھے تو مظائقہ نہیں ، اگر کوئی شخص پوری سورہ الحمد دعا کی نیت سے پڑھے یا ربنااتنا فی الدنیا حسنت یا ربنا لا تو اخذنا ان نسینا الخ یا کوئی اور ایسی ہی دعا والی آیت دعا کی نیت سے پڑھے تو جائز ہے اس میں کچھ گناہ نہیں دعائ قنوت کا پڑہنا بھی درست ہے نیز کلمہ شریف ، درود شریف ، اللّٰہ تعالی کا نام لینا ، استغفار پڑھانا یا کوئی اور وظیفہ مثلاً لا حول ولا قوت الا باللّٰہ پڑھنا منع نہیں ہے بلکہ ان دعائوں وغیرہ کا پڑھانا چھونا اور اٹھنا جائز و درست ۔ہے
٥. اگر معلمہ عورت ( استانی) کو حیض یا نفاس آ جائے تو اس کو چاہیے کہ بچوں کو رواں پڑھاتے وقت پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک کلمہ سکھائے اور ان کے درمیان میں توقف کرے اور سانس توڑ دے اور رک رک کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے رواں پڑھائے اس کو بھی مرکب الفاظ کا ایک دم پڑھنا جائز نہیں ہے اور ہجےکرانا اس کے لئے مکروہ نہیں بلکہ درست ہے بعض فقہا نے یہ حکم حیض والی عورت کے لئے مخصوص کیا ہے اور جنبی کے لئے ان کے جائز نہیں رکھا کیونکہ عورت ہر مہینہ میں چند روز اس کے لئے مضطر ہے جس کی وجہ سے بخیال حرج تعلیم اس کو اجازت دی گئی ہے ، بخلاف جنبی کے لیکن مختار یہ ہے کہ جنبی کا بھی یہی حکم ہے ،



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ