اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


معذور کے احکام
تعریف معذور وہ شخص ہے جس کو ایسا عذر لاحق ہو جس کا روکنا اس کے قابو سے باہر ہو اور اس کا وہ عذر ایک نماز کے پورے وقت تک برقرار رہے اتنا وقت نہ ملے کہ اس وقت کی نماز فرض و واجب طہارت کے ساتھ پڑھ سکے مثلاً نکثیر یا استحاضہ کا خون جاری ہو یا ریح یا پیشاب یا دست ( اسحال) یا پیپ خارج ہوتی رہے یا بدن کے کسی مقام مثلاً آنکھ کان ناف یا پستان وغیرہ سے درد کے ساتھ پانی نکلتا رہے اور اگر اتنا وقت مل جائے جس میں طہارت ۔کے ساتھ فرض و واجب نماز پڑھ سکے تو اس کو معذور نہ کہیں گے شرائط اول مرتبہ ثبوتِ عذر کے لئے یہ شرط ہے کہ ایک نماز کے پورے وقت تک عذر قائم رہے یعنی اس کو اتنا وقت نہ ملے کہ جس میں ایسا وضو کر سکے کہ فقط وضو کے فرائض ادا ہوں۔ فرض و واجب نماز جو بہت لمبی نہ ہو ادا کر سکتا ہو ، عذر کے منقطع ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ ایک نماز کے پورے وقت تک عذر منقطع رہے ، مثلاً ظہر کا کچھ وقت گزر گیا تب زخم و غیرہ کا خون بہنا شروع ہوا تو اخیر وقت تک انتظار کرے اگر بند ہو جائے تو خیر ورنہ اسی حالت میں وضو کر کے نماز پڑھ لے پھر اگر عصر کو وقت کے اندر ہی اندر بند ہو گیا تو وہ معذور نہیں اور جو نمازیں اتنے وقت میں پڑھی ہیں یعنی ظہر و عصر دونوں وقت کی نمازیں درست نہیں ہوئیں۔ ان کو پھر سے پڑھے مگر اس کے لئے نفل و سنت کی قضا واجب نہیں ، عصر کے وقت غیر مکروہ وقت تک انتظار کرے اگر بند نہ ہو جائے تو وضو کرے اور نماز پڑھ لے پھر اگر مکروہ وقت میں خون بند ہو جائے تو وہ معذور نہ ہو گا اور اس کو وہ نماز لوٹانی پڑے گی اور اگر عصر کے پورے وقت میں اسی طرح خون بہتا رہا کہ اس کو طہارت کے ساتھ نماز پڑھنے کی مہلت نہ ملی تو اب عصر کا وقت گزرنے پر معذور ہونے کا حکم لگائیں گے اور اس کی پڑھی ہوئی نماز درست ہو جائے گی۔ عذر کے باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ نماز کا وقت اس پر ایسا نہ گزرے کہ اس میں عذر نہ ہو اگرچہ ایک ہی دفعہ کے لئے ہو پس جب ایک دفعہ معذور ہو گیا تو اس کے بعد کے وقتوں میں اس عذر یعنی خون کے بہنے وغیرہ کا ہر وقت پایا جانا شرط نہیں بلکہ اگر ہر نماز کے پورے وقت میں ایک دفعہ بھی خون آ جایا کرے اور باقی تمام وقت بند رہے تب بھی معذور رہے گا لیکن اگر اس کے بعد ایک پورا وقت ایسا گزر جائے جس میں خون بلکل نہ آئے تو اب معذور نہیں رہے گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ