اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


نجاستوں کا بیان
نجاستوں کے پاک کرنے کا طریقہ جو چیزیں اپنی ذات سے ناپاک (نجس) نہیں ہیں لیکن کسی نجاست کے لگنے کی وجہ سے ناپاک ہو گئیں ان کے پاک کرنے کے دس طریقہ ہیں ،
١. دھونا پانی اور ہر بہنے والی رقیق و پاک چیز سے کہ جس سے نجاست دور ہو سکے وہ نجاست پاک کی جا سکتی ہے جیسے سرکہ ، گلاب ، زعفران کا پانی ، عرقِ باقلا ، درختوں ، پھلوں اور تربوز کا پانی وغیرہ مائعات جن سے کپڑا بھگو کر نچوڑا جا سکے ، لیکن جس میں چکنائی ہو اور جس سے بھگو کر کپڑا نچوڑا نہ جا سکے اس سے نجاست دور کرنا جائز نہیں ، جیسے تیل ، گھی ، شوربا ، شہد ، شیرہ وغیرہ۔ اگر نجاست خشک ہونے کے بعد نظر آنے والی ہو تو نجاست کا وجود دور کیا جائے اور اس میں دہونے کی تعداد کا اعتبار نہیں اگر ایک ہی مرتبہ کے دھونے میں اور نجاست اور اس کا اثر یعنی رنگ و بو چھوٹ جائے تو وہی کافی ہے لیکن پھر بھی تین بار دھو لینا مستحب ہے اور اگر تین مرتبہ میں بھی اثر نہ چھوٹے تو اس وقت تک دھوئے جب تک وہ اثر بلکل نہ چھوٹ جائِے اثر زائل کرنے کے لئے صابن وغیرہ کی ضرورت نہیں اگر صاف پانی آنے لگے اور نجاست کا جسم دور ہو جائے مگر رنگ باقی رہ جائے اور وہ دور نہیں ہوتا تو اس کا مذائقہ نہیں اور رنگدار نجاست بذات خود نجس نہیں تو تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گا خواہ رنگدار پانی نکلتا رہے مثلاً رنگنے کے لئے رنگ گھولا اور اس میں کسی بچہ نے پیشاب کر دیا یا کوئی اور نجاست پڑ گئی اور اس سے کپڑا رنگ لیا تو تین بار دھو ڈالیں پاک ہو جائے گا اگرچہ پھر بھی رنگ نکلتا رہے۔ اگر نجاست خشک ہونے پر نظر آنے والی نہ ہو تو اس کو تین بار دھوئے ، اور جو چیز نچوڑی جا سکتی ہے اس کو ہر مرتبہ نچوڑنا شرط ہے اور تیسری مرتبہ خوب اچھی طرح پوری طاقت سے نچوڑے ہر شخص کی اپنی طاقت کا اعتبار ہے جو چیز نچوڑی نہیں جا سکتی جیسے چٹائی یا بھاری کپڑا یا دری ، کمبل وغیرہ تو تین مرتبعہ دھوئے اور ہر مرتبعہ خشک کرے اور خشک کرنے کی حد یہ ہے کہ اس کو لٹکا کر اتنی دیر چھوڑ دے کہ اس سے پانی ٹپکنا بند ہو جائے بلکل سوکھنا شرط نہیں اگر وہ بھاری چیز ایسی ہو کہ نجاست کے جذب نہیں کرتی جیسے چٹائی وغیرہ تو صرف تین بار کے دہو لینے سے پاک ہے جائے گا ہر بار اتنی دیر چھوڑنا کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے ۔ضروری نہیں جذب کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے چیزیں تین قسم کی ہیں اول جو نجاست کے بلکل جذب نہیں کرتی جیسے لوہا تانبا پیتل وغیرہ کی چیزیں دہو لینے سے پاک ہو جاتی ہیں اور پونچھ ڈالنے سے بھی پاک ہو جاتی ہیں ہیں جبکہ اثر جا تا رہے اور وہ کھردری نہ ہو دوم جو نجاست کو بہت زیادہ جذب نہ کرے لیکن کچھ نہ کچھ جذب کرے جیسے چٹائی وغیرہ یہ بھی نجاست دور ہو جانے پر پاک ہو جاتی ہیں سوم جو بلکل جذب کر لیتی ہیں جیسے کپڑا وغیرہ ایسی چیزوں کو پاک کرنے کے لئے تین بار کا دھونا اور ہر بار نچوڑنا چاہئے اگر وہ چیز نچوڑی نہ جا سکے تو ہر بار لٹکا کر اسقدر چھوڑنا چاہئے چاہئے کہ پانی ٹپکنا ۔بند ہو جائے


پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ