اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


نجس چیزوں کا بیان
نجاست حقیقہ کی دو قسمیں ہیں
١. غلیظہ یا مغلظہ یعنی جس کی نجاست حکم میں سخت ہے ۔
٢. خفیفہ یا مخففہ جو حکم میں ذرا کم اور ہلکی ہو
نجاست غلیظہ
نجاست غلیظہ بقدر درہم معاف ہے اور نماز کو نہیں توڑتی ، اگر درہم سے زیادہ ہو تو نماز جائز نہ ہو گی اگر وہ نجاست جسمدار ہو جیسے پاخانہ گوبر وغیرہ تو درہم کے وزن کا اعتبار ہو گا اور وہ ساڑھے تین ماشہ ہے اور اگر بےجسم کی یعنی پتلی ہو جیسے شراب ، پیشاب وغیرہ تو ہند و پاکستان کے ایک روپیہ کے پھیلائو کے برابر معاف ہے ، معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اتنی نجاست کپڑے یا بدن پر لگی ہو اور نماز پڑھ لے تو نماز ہو جائے گی اور قصداً اتنی نجاست بھی لگی رکھنا جائز نہیں ہے اگر قدر درہم سے زیادہ غلیظہ کپڑے یا بدن پر لگی ہو تو نماز جائز نہ ہو گی اور اس کا دھونا فرض ہے اور اگر درہم کے برابر ہے تو اس کا دھونا واجب ہے اگر اس کو دہوئے بغیر نماز پڑھی تو مکروہِ تحریمی ہے اور اس کا لوٹانا واجب ہے اور قضداً پڑھے تو گناہگار بھی ہو گا ، اگر نجاست درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے بغیر پاک کئے نماز پڑھی تو نماز ہو جائے گی مگر خلاف سنت اور مکروہِ ۔تنزیہی ہو گی اور اس کا لوٹانا بہتر ہے نجاست غلیظہ یہ چیزیں ہیں آدمی کا پیشاب ، پاخانہ ، جانوروں کا پاخانہ ( گوبر اور مینگنی وغیرہ) حرام ۔ جانور کا پیشاب ، آدمی اور تمام حیوانات کا بہتا ہوا خون ، شراب ، مرغی ، بطخ ، مرغابی اور کونج کی بیٹ ، منی ، ندی ، ودی ، کچلو ہو ، پیپ ، قے جو منہ بھر کر آئے ، حیض و نفاس و استحاضہ کا خون وغیرہ



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ