اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


استنجا کا بیان
پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد جو ناپاکی بدن پر لگی رہے اسکے پاک کرنے کو ۔ استنجا کہتے ہیں پیشاب کرنے کے بعد مٹی کے پاک ڈھیلے سے پیشاب کے مخرج کے سکھانا چاہئے اس کے بعد پانی سے دھو ڈالنا چاہئے۔ پاخانہ کے بعد مٹی کے تین ڈھیلوں سے پاخانہ کے مقام کو صاف کرے پھر پانی سے دھو ڈالے۔ استنجا ان چیزوں سے جائز ہے جو پتھر کی طرح صاف کرنے والی ہیں ، جیسے پاک مٹی کا ڈھیلا ، ریت ، لکڑی ، پھٹا ہوا بےقیمت کپڑا و چمڑا اور اس کے سوا ایسی چیزیں جو پاک ہوں اور نجاست کو دور کر دیں بشرطیکہ قیمت والی اور احترام ۔والی نہ ہوں۔ پاک مٹی کو ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنت ہے ڈھیلے سے استنجا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بائیں طرف زور دیکر بیٹھے ، قبلہ کی طرف منھ نہ ہو ، اور ہوا ، سورج اور چاند کی طرف سے بھی بچ جائے ، تین یا پانچ یا سات مٹی کے ڈھیلے اپنے ساتھ لے جائے صاف کرتے وقت پہلے ڈھیلے کو آگے سے پیچھے کی طرف لے جائے اور دوسرے کو پیچھے سے آگے کی طرف لائے پھر تیسرے کو پیچھے کی طرف لے جائے۔ یہ طریقہ گرمی کے موسم کا ہے لیکن جاڑوں میں اس کے برخلاف ، پہلے ڈھیلے کو پیچھے سے آگے کی طرف لائے اور دوسرے کو پیچھے لے جائے اور تیسرے کو آگے لائے اور عورت ہمیشہ وہی طریقہ کرے جو مرد جاڑوں میں کرتا ہے۔ اور طریقہ مقصود نہیں بلکہ صفائی کا مددگار ہے اصل مقصود صفائی اور پاکی ہے خواہ جس طریقہ سے بھی حاصل ہو جائے۔ اگر ایک یا دو ڈھیلے سے صفائی حاصل ہو جاتی ہے تو تین کی گنتی پوری کر لے اور اگر تین سے بھی صفائی حاصل نہ ہو اور چار سے حاصل ہو تو پانچواں ڈھیلا اور لے تاکہ طاق ہو جائیں کیونکہ طاق عدد کا استعمال مستحب ہے۔ مستحب یہ ہے کہ پاک ڈھیلے یا پتھر دائیں طرف رکھے اور استعمال کئے ہوئے بائیں طرف رکھے اور ان کی نجس جانب نیچے کو کر دے ، ڈھیلے وغیرہ سے استنحا کرنے کے بعد پانی سے استنجا کرنا سنت ہے۔ افضل یہ ہے کہ پردہ دار جگہ ہو تو دونوں کو جمع کرے پیشاب کرنے کے بعد ڈھیلے سے استنحا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ذکر کو بائیں ہاتھ میں پکڑ کر ڈھیلے یا پتھر پر جو زمین سے اٹھا ہوا ہو یا بائیں ہاتھ میں لیا ہوا ہو حرکت دے یہاں تک کہ رطوبت خشک ہو جائےاور یہ یقین ہو جائے کہ اب پیشاب نہ آئے گا۔ بعض کے نزدیک استبرائ یعنی پیشاب کے بعد چند قدم چلنا یا زمین پر پائوں مارنا یا کھنکارنا یا دائیں ٹانگ پر بائیں ٹانگ لپیٹنا اور پھر اس کے برعکس کرنا واجب ہے۔ تاکہ رکا ہوا قطر نکل جائے ، لوگوں کی طبعیتیں مختلف ہوتی ہیں اور ہر شخص کے لئے اپنا اطمینان ضروری ہے اور یہ استبرائ کا حکم مردوں کے لئے ہے عورت پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی دیر ٹھر کر پہلے ڈھیلے سے مقام پیشاب کو خشک کر لے پھر پانی سے طہارت کر لے یا صرف پانی سے طہارت ۔کر لے پانی سے استنجا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ کے کلائی تک دھو لے پھر اگر روزہ دار نہ ہو پاخانہ کے مقام کو خوب ڈھیلا چھوڑ کر بیٹھے اور بائیں ہاتھ سے خوب استنجا کرے اور اسقدر دھوئے کہ اس کو پاکی کا یقین یا ظن غالب ہو اور چکنائی جاتی رہے اور دہونے میں خوب زیادتی کرے اور اگر روزہ دار ہو تو زیادتی نہ کرے اور نہ زیادہ پھیل کر بیٹھے ، دھونے کا کچھ شمار مقرر نہیں اگر وسوسہ والا شخص ہو تو اپنے لئے تین مرتبہ دھونا مقرر کر لے۔ عورت کشادہ ہو کر بیٹھے اور ہتھیلی سے اوپر اوپر دھو لے عورت مرد سے زیادہ کشادہ ہو کر بیٹھے ، پیشاب کے مقام کو پہلے دھوئے یہی ۔مختار ہے استنجا کے پاک ہونے کے ساتھ ہی ہاتھ بھی پاک ہو جاتا ہے۔ استنجا کے بعد ہاتھ کلائیوں تک دہو لے جیسا کہ اول میں دھوتا ہے تاکہ خوب ستھرا ہو جائے۔ جاڑے میں گرمیوں کی نسبت مبالغہ کرے اور اگر گرم پانی ہو تو جاڑے ۔کا حکم بھی گرمیوں کی طرح ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ