اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


مکروہاتِ استنجا
١. استنجا کرتے وقت قبلہ کی طرف کو منہ یا پیٹھ کرنا خلافِ ادب و مکروہِ ۔تنزیہی ہے
٢. ہڈی ، خشک گوبر ، لید ، کھانے کی چیز ، شیشہ ، چونا ، لوہا ، چاندی ، سونا وغیرہ پکی ٹھیکری ، پکی اینٹ ، پتے ، بال ، روئی ، کوئلہ ، نمک ، ریشمی کپڑا ۔اور ہر قیمتی اور محترم چیز سے استنجا کرنا مکروہ ہے
٣. بلا عذر دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا ، لیکن اگر بائیں ہاتھ میں کوئی عذر ہو ۔تو کراہت نہیں ۔
٤. نجس چیزوں سے استنجا کرنا
٥. ایسی چیزوں سے استنجا کرنا جو نجاست صاف نہ کرے جیسے سرکہ ۔وغیرہ ٦. ایسی چیزوں سے استنجا کرنا جس سے انسان اور اس کے جانور نفع حاصل ۔کر سکیں
 ٧. جس پتھر یا ڈھیلے وغیرہ سے خود یا کوئی اور شخص استنجا کر چکا ہو ، لیکن اگر پتھر کے کئی کونے ہوں اور ہر مرتبہ نئے کونے سے استنجا کرے تو ۔کراہت نہیں ۔
٨. کاغذ سے استنجا کرنا اگرچہ کورا ہو
٩. بلا اجازت کسی غیر آدمی کے پانی یا کپڑے یا کسی اور چیز سے استنجا ۔کرنا ہے
١٠. زمزم شریف سے استنجا پاک کرنا
١١. ایسی جگہ استنجا کرنا کہ کسی غیر شخص کی نظر اس کے ستر پر پڑتی ہو

پانی سے استنجا پانچ قسم پر ہے ، ان میں سے پہلی دو قسم کا استنجا فرض ہے ١. مخرج کا اس وقت دہونا فرض ہے جبکہ جنابت یا حیض و نفاس کی ۔وجہ سے غسل کرے
٢. جب نجاست مخرج سے زائد ہو خواہ تھوڑی ہو یا بہت اس میں زیادہ احتیاط ہے اور شیخین کے نزدیک جب مخرج کے علاوہ قدر رہم سے زیادہ ۔ہو دھونا فرض ہے
٣. سنت اور وہ اس وقت جب نجاست مخرج سے بڑھے
٤. مستحب ، وہ اس وقت ہے جبکہ صرف پیشاب کیا ہو اور پاخانہ نہ کیا ہو اور نجاست مخرج سے نہ بڑھے پس اس وقت پیشاب کی جگہ کو دھونا ۔بعض کے نزدیک مستحب ہےاور بعض کے نزدیک سنت ہے
٥. بدعت اور وہ ریح نکلنے سے استنجا کرنا ہے۔ فصد لینے اور سونے کے بعد بھی استنجا بدعت ہے ۔



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ