اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب طہارت،


مکروہات بیت الخلا
١. قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پائخانہ یا پیشاب کرنا مکروہِ تحریمی ہے اگر بھول کر ایسا ہو گیا تو مستحب یہ ہے کہ قبلہ کی طرف سے جس قدر ہو سکے بچ جائے اور رخ پھیر لے ، گھر کے پاخانوں اور جنگل سب جگہ یہی حکم ہے ، عورت کے لئے چھوٹے بچے کو قبلہ کی طرف بٹھا کرفراغت کرانا مکروہ ۔اورمنع ہے اور اس کا گناہ عورت پر ہے ۔
٢. پیشاب پائخانے کے وقت سورج اور چاند کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا ، ۔بظاہر کراہتِ تنزیہی ہے ۔
٣. بلا عذر کھڑے ہو کر یا لیٹ کر یا بالکل ننگا ہو کر پیشاب کرنا ۔
٤. جاری پانی یا بند پانی یا نہر یا کنوئیں یا حوض یا چشمہ کے کنارے یا پھل دار درخت کے نیچے یا کھیتی میں یا ایسے سایہ میں جہاں بیٹھنے کا آرام ۔ملے پیشاب یا پائخانہ کرنا ۔
٥. مسجد یا عیدگاہ کی دیوار کے پاس یا قبرستان میں یا چوپائے جانور یا لوگوں کے بیٹھنے یا راستہ چلنے کی جگہ میں پیشاب یا پائخانہ کرنا۔ بند قلیل پانی میں پیشاب یا پائخانہ کرنا حرام ہے ، بند کثیر میں مکروہِ تحریمی اور جاری میں مکروہِ تنزیہی ہے البتہ جو لوگ دریا یا سمندر کا سفر کرتے ہیں ان کو بوجہ ۔مجبوری جائز ہے ۔
٦. مسجد میں یا مسجد کی چھت میں بول و براز کرنا حرام ہے ۔
٧. نیچی جگہ پر بیٹھ کر اونچی جگہ پر پیشاب کرنا ۔
٨. چوہے اور سانپ اور چیونٹی کے بل بلکہ ہر سوراخ میں پیشاب کرنا ۔
٩. قافلہ یا خیمہ یا کسی مجمع کے قریب پیشاب کرنا ۔
١٠. سخت زمین پر پیشاب کرنا اگر ایسی جگہ ضرورت پڑے تو پتھر یا عصا ۔وغیرہ سے کوٹ کر یا کھود کر نرم کر لے تاکہ چھینٹیں نہ اڑیں ۔
١١. پیشاب کر کے اس جگہ وضو یا غسل کرنا یا غسل یا وضو کی جگہ میں ۔پیشاب پائخانہ کرنا یہ سب باتیں مکروہ ہیں ۔



پچھلا صفحہ