اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز کی شرطوں کا بیان

نماز کی شرطیں نماز کے وہ فرائض ہیں جو نماز سے باہر ہیں اور اُن کے بغیر نماز واجب یا صحیح نہیں ہوتی پس نماز کی شرطیں دو قسم کی ہیں

اوّل: نماز کے واجب ہونے کی شرطیں اور وہ پانچ ہیں
١. اسلام یعنی مسلمان ہونا کافر پر نماز فرض نہیں ہے
٢. صحتِ عقل، بےعقل پر نماز فرض نہیں ہے
٣. بلوغ، نابالغ پر نماز فرض نہیں ہے
٤. نماز سے عاجز نہ ہونا مثلاً عورتوں کو حیض و نفاس سے پاک ہونا وغیرہ
٥. وقت یعنی اسلام لانے یا بالغ ہونے یا جنون یا بیہوشی کے بعد یا حیض و نفاس سے پاک ہونے کے بعد نماز کا وقت پانا اگرچہ وہ اسی قدر ہو جس میں صرف تحریمہ کی گنجائش ہو پس اگر اس سے بھی کم وقت پایا تو اس پر اس وقت کی نماز فرض نہیں ہے

دوم: نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں اور وہ بہت سی ہیں لیکن جو مشہور ہیں اور ہر نماز سے تعلق رکھتی ہیں وہ سات ہیں
١. نجاستِ حکمی یعنی حدث اکبر و اصغر سے طہارت، یعنی جس پر غسل فرض ہے اس کو غسل کرنا اور جس کا وضو نہیں ہے اس کو وضو کرنا
٢. نجاست حقیقی سے طہارت، یعنی نمازی کے بدن اور کپڑوں اور نماز کی جگہ کا نجاستِ حقیقی سے پاک ہونا خواہ نجاست خفیفہ ہو یا ثقیلہ
٣. ستر عورت
٤. قبلہ کی طرف منھ کرنا
٥. وقت
٦. نیت
٧. تحریمہ

بعض کتابوں میں ان شرطوں کو اس طرح بیان کیا ہے
١. بدن کی پاکی،
٢. کپڑوں کی پاکی،
٣. جگہ کی پاکی،
٤. سترِعورت
٥. نماز کا وقت
٦. استقبال قبلہ
٧. نماز کی نیت اور وہ تحریمہ کو نماز کے ارکان کو ساتھ ملاتے ہیں بعض نے وقت کو سبب ہونے کی وجہ سے الگ کر دیا ہے اور بعض نے کسی اور انداز سے بیان کیا ہے لیکن بات سب کی ایک ہی ہےان شرطوں کا الگ الگ مختصر بیان درجِ ذیل ہے البتہ تحریمہ کا بیان ارکان کے ساتھ ہو گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ