اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


جن مقامات پر نماز پڑھنا مکروہ ہے

جن مقامات پر نماز پڑھنا مکروہ ہے
١. راستہ،
٢. اونٹ، گائے، بیل، بھیڑ، بکری وغیرہ چوپایوں کے باندھنے کی جگہ،
٣. گھوڑے پر،
٤. جانوروں کی ذبح کرنے کی جگہ،
٥. پاخانہ اور اس کی چھت،
٦. غسل خانہ اور اس کی چھت،
٧. حمام اور اس کی چھت،
٨. کعبہ معظمہ کی چھت (کیونکہ تعظیم و ادب کے خلاف ہے اور حدیثِ پاک میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے) مسجد کی چھت کا بھی یہی حکم ہے جبکہ بلا ضرورت پڑھے،
٩. مقبرہ (قبرستان) لیکن اگر قبرستان میں نماز کے لئے الگ جگہ بنائی گئی ہو اور اس جگہ کوئی قبر نہ ہو اور نہ نمازی کے سامنے کوئی قبر ہو اور نہ وہاں کوئی نجاست ہو تو ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے اگر قبر نمازی کے دائیں یا بائیں یا پیچھے ہو یا اگر سامنے ہو مگر سترے کی مقدار کوئی چیز نمازی اور قبر کے درمیان حائل ہو تو کچھ کراہت نہیں
١٠. نالہ بہنے کی جگہ،
١١. آٹا پیسنے کی چکی کے پاس،
١٢. مزبلہ ( کوڑا ڈالنے کی جگہ)،
١٣. چھینی ہوئی زمین یا پرائی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر جبکہ وہ بوئی یا جوتی ہوئی ہو، ورنہ مجبوری کی حالت میں راستہ میں پڑھے
١٤. جنگل و میدان میں سترے کے بغیر نماز پڑھنا، سترے کی تفصیل مکروہاتِ نماز میں ہے، ( گھاس، بوریا، چٹائی اور کپڑے وغیرہ کے فرش پر نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں لیکن زمین پر اولیٰ ہے کہ اس میں عجز و نیاز ظاہر ہوتا ہے)
ہمارے زمانے میں احتیاطاً سفر میں اپنے ہمراہ جانماز ( مصلی) رکھنا بہتر ہے پانی کے لئے لوٹا و غیرہ بھی ہمراہ ہونا بہتر ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ