اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز میں ستر کھل جانے کے مسائل

١. نماز میں کسی عضو کا چوتھائی سے کم ستر کا کھل جانا معاف ہے خواہ کتنی ہی دیر کھلا رہے چوتھائی یا زیادہ ستر کھل جانے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے جبکہ ایک رکن کی مقدار ( تین بار سبحان اللّٰہ کہنے کے مقدار) کھلا رہے، پس جن اعضا کا ڈھاپنا فرض ہے ان میں سے کوئی عضو نماز کے اندر چوتھائی یا زیادہ کھل گیا اور اس نے فوراً رکن کی مقدار سے پہلے پہلے ڈھانپ لیا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور اگر ایک رکن کی مقدار کھلا رہا تو نماز فاسد ہو گئی، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بلا ارادہ کھل گیا ہو اور اگر اپنے ارادہ سے یا اپنے فعل سے کھولا تو رکن کی مقدار کی رعایت نہیں بلکہ فوراً یہ نماز جاتی رہے گی، اگرچہ رکن کی مقدار سے پہلے پہلے ڈھانپ لیا ہو، اگر نماز شروع کرتے وقت ستر کے کسی عضو کی چوتھائی کھلی ہوئی ہے اور اسی حالت میں تکبیر تحریمہ کہی تو نماز شروع ہی نہیں ہوئی اگرچہ رکن کی مقدار سے کم وقت گزرے
٢. اصح یہ ہے کہ سترغلیظ ہو یا خفیف اس کا حساب چوتھائی حصہ سے ہی کیا جاتا ہے ستر کا غلیظ یا خفیف ہونا صرف حرمتِ نظر کے اعتبار سے ہے
٣. مرد اور عورت میں پیشاب و پاخانہ کا مقام اور جو جگہ ان دونوں کے آس پاس ہے ستر غلیظ ہے اس کے علاوہ سب ستر خفیف ہے ( گھٹنا بہ نسبت ران کے خفیف ستر ہے پس گھٹنا کھولنے والے کو نرمی سے منع کیا جائے اور ران کھولنے والے کو سختی سے منع کیا جائے لیکن اگر نہ مانے تو اس کو مارے نہیں اور اگر عورت غلیظہ کھولے ہوئے ہو اور وہ شخص مارنے پر قادر ہے مثلاً باپ یا حاکم تو اس کو مارے)
٤. چوتھائی سے مراد اعضائے ستر میں سے ہر عضو کی اپنی چوتھائی ہے اگر ایک عضو میں کئی جگہ تھوڑا تھوڑا کھلا ہو تو جمع کریں گے اگر دو یا زیادہ اعضا میں کھلا ہوا ہو تو اس کو بھی جمع کریں گے لیکن اس کا حساب ان میں سے سب سے چھوٹے عضو کی چوتھائی سے کیا جائے گا
٥. اگر ایک عضو میں سے کئی جگہ سے کھلا ہو تو اجزائ یعنی پانچواں چھٹا حصہ وغیرہ کے حساب سے جمع کیا جائے گا اور اگر چند اعضا میں کھلا ہو تو چھٹا آٹھواں حصہ وغیرہ معتبر نہیں بلکہ پیمائش سے جمع کیا جائے گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ