اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


٦. نیت کا بیان

١. خالص اللّٰہ تعالٰی کے واسطے نماز پڑھنے کے ارادہ کو نماز کی نیت کہتے ہیں اور شرط اس کی یہ ہے کہ دل جانتا ہو کہ کونسی نماز پڑھتا ہے لیکن محض جاننا نیت نہیں جب تک ارادہ نہ ہو اس لئے نیت ارادے کا نام ہے، جاننے کو ارادہ لازمی نہیں لیکن ارادہ کو جاننا لازمی ہے نیت میں دل کا عمل معتبر ہے اس لئے زبان سے کہنا ضروری نہیں، اگر زبان سے بھی کہہ لیا تو بہتر و مستحسن ہے، یہی قول مختار ہے نیتِ قلبی کے بغیر زبان کی نیت بیکار ہے
٢. زبان سے کہنے میں عربی میں ہونا ضروری نہیں کسی بھی زبان میں کہہ لے
٣. جو شخص حضورِ قلب سے عاجز ہو اس کو زبان سے نیت کر لینا کافی ہے، دل کا حاضر رہنا صرف نیت کے وقت شرط ہے تمام نماز میں شرط نہیں پس اگر دورانِ نماز میں دل کی حضوری قائم نہ رہی تو بلا خلاف نماز درست ہے
٤. مستحب و افضل یہ ہے کہ نیت نماز شروع کرنے کے ساتھ ہو اور نیت کا تکبیر تحریمہ پر مقدم کرنا بھی جائز ہے جبکہ نیت اور تحریمہ کے درمیان میں کوئی عمل نیت کا توڑنے والا نہ پایا جائے
٥. جو نیت تکبیر تحریمہ کے بعد ہو اس کا اعتبار نہیں یہاں تک کہ اگر اللّٰہ کہنے کو بعد اور اکبر کہنے سے پہلے نیت کی تب بھی نماز درست نہ ہو گی



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ