اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


فرضِ عین نماز کی نیت کا بیان

١. فرض نماز کے لئے دل میں فرض کا تعین کرنا بھی ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہو گی پس یوں کہیں کہ میں آج کے دن کی ظہر یا عصر وغیرہ کی یا اس وقت کے فرض یا اس وقت کے ظہر یا عصر وغیرہ کی نیت کرتا ہوں
٢ صرف فرض نماز کی نیت کرنا کافی نہیں پس اگر کسی نے صرف فرض نماز کی نیت کی تو خواہ وقت کے اندر ہو یا وقت کے بعد میں ہو اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو ان سب صورتوں میں اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی
٣. اگر صرف وقت کا نام لے کر نیت کی مثلاً یوں کہا کہ ظہر کی نماز پڑھتا ہوں اور اس کو ساتھ آج یا اس وقت نہیں کہا تو اگر نماز وقت کے اندر پڑھی ہو اور دل میں حاضر ہے کہ اسی وقت کی ظہر پڑھتا ہے تو نماز صحیح ہے ورنہ نہیں اور اگر وقت نکلنے کے بعد اس طرح نیت کی تھی تو بعض کے نزدیک صحیح نہیں ہے یہی اظہر ہے اور اگر وقت نکلنے کا علم نہیں تو نماز صحیح ہے
٤. اگر یوں نیت کی کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں تو خواہ وہ نماز وقت کے اندر ہو یا وقت نکلنے کے بعد پڑھتا ہو اور اس کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو ان سب صورتوں میں نماز جائز ہو جائے گی
٥. اگر یوں نیت کی کہ آج کی فرض نماز پڑھتا ہوں تو سب صورتوں میں اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی
٦. اگر یوں نیت کی کہ اس وقت کی ظہر پڑھتا ہوں تو اگر وقت کے اندر ہو یا وقت کے بعد ہو اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو تو نماز ہو جائے گی اور اگر وقت کے بعد ہو اور وقت نکلنے کا علم نہ ہو یا شک ہو تو نماز صحیح نہ ہو گی
٧. اگر یوں نیت کی کہ اس وقت کی فرض نماز پڑھتا ہوں تو اگر وقت کے اندر ہو تو جائز ہے اگر وقت نکنے کے بعد ہو خواہ اس کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو نماز جائز نہیں ہو گی
٨. اگر جمعہ کی نماز کے لئے فرض الوقت یا ظہر الوقت کی نیت کی تو وقت کے اندر بھی اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی اس کو نماز جمعہ ہی کی نیت کرنی چاہئے
٩. آج کی ظہر یا عصر وغیرہ کی نیت کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ ہر صورت میں نماز صحیح ہونے کے لئے کافی ہے خواہ وقت کے اندر ہو یا بعد میں اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہے اور یہ اس شخص کے لئے تدبیر ہےجس کو وقت نکلنے میں شک ہو



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ