اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز جنازہ کی نیت کا بیان
نمازِ جنازہ کی نیت میں میت کے لئے دعا کی نیت ملانا ضروری نہیں البتہ بہتر ہے، پس یوں نیت کرے کہ نماز اللّٰہ تعالٰی کے واسطے ہے اور دعا میت کےواسطے، نیت کے الفاظ یہ ہیں
" میں نے کعبہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر اس جنازہ کی نماز ادا کرنے کی نیت کی یہ نماز اللّٰہ تعالٰی کے لئے ہے اور دعا میت کے لئے ہے"
مقتدی یوں بھی کہے کہ میں اس امام کے پیچھے ہوں اگر امام دل میں یہ نیت کرے کہ میں اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں تب بھی صحیح ہے اور مقتدی یوں نیت کرے کہ میں اس امام کی اقتدا کرتا ہوں تو بھی جائز ہے، میت کا مذکر یا مونث معین کرنا ضروری نہیں لیکن جب معین کر دیا تو اس تعین کا صحیح ہونا لازمی ہے ورنہ نماز نہ ہو گی اگر نمازی پر میت مشتبہ ہو جائے کہ مذکر ہے یا مونث تو یوں کہے کہ جس میت پر امام نماز پڑھتا ہے میں بھی اس پر امام کے ساتھ پڑھتا ہوں اور اگر جنازہ حاضرہ کی طرف اشارہ کیا تو اب مذکر یا مونث کے تعین میں غلطی ہو جانے پر بھی نماز درست ہو جائے گی، اگر نام کے تعین میں غلطی ہوئی تب بھی یہی حکم ہے کیونکہ اگرچہ نام کا تعین ضروری نہیں لیکن جب تعین کیا تو اس تعین کا صحیح ہونا لازمی ہے اگر جنازہ حاضرہ کی طرف اشارہ کیا مثلاً یوں کہا کہ اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں تو مذکر مونث یا نام میں غلطی ہو جانے کے باوجود نماز صحیح ہو جائے گی کیونکہ اشارہ سے متعین کر دینا کافی ہے اور مناسب یہی ہے کہ نام یا مذکر مونث کا تعین نہ کرے بلکہ اس میں اشارہ کا استعمال کرے اور یوں کہے کہ اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں بہت سے جنازوں کی نماز ایک ساتھ پڑھے تو ان کی تعداد معلوم ہونا ضروری نہیں اور ان کی تعداد کا معین کرنا مضر نہیں مگر جب کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ ان کی شمار اس تعداد سے زیادہ ہے جو نمازی نے معین کی ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ