اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز واجب کی نیت کا بیان

١. نمازِ واجب میں واجب کی نیت کرے اور اُسے معین بھی کرے یعنی یہ کہے کہ وہ وتر کی نماز ہے یا نزر یا عیدالفطر کی یا عید الضحیٰ کی یا طواف کی دو رکعت یا نفل کی قضا جن کو شروع کر کے توڑ دیا ہو یا سجدہ سہو یا سجدہ تلاوت کی نیت کرے ، وتر میں یہ نیت کرنا لازمی نہیں کہ یہ واجب ہے یا سنت ہے کیونکہ اس میں اختلاف ہے، فقط وتر کی نیت کافی ہے پس یوں کہے کہ میں اس رات کے وتر پڑھتا ہوں واجب ہونے کی نیت کرے تو منع نہیں ہے بلکہ اولیٰ ہے واجب نہ ہونے کی نیت کرنا کافی نہیں ہے
٢. نزر کی نماز میں سبب کا بھی تعین کرے اور یوں کہے کہ وہ نماز پڑھتا ہوں جو شفا کے واسطے یا فلاں حاجت کے واسطے میں نے نزر مانی تھی کیونکہ نزر کی تعین اس کے سبب کے ذکر کے بغیر نہیں ہوتی، سجدہ تلاوت اگر نماز میں ہو اور فوراً کر لیا جائے تو نیت میں تعین ضروری نہیں اگر فاصلہ ہو جائے یا نماز سے باہر ہو تو سجدہ تلاوت کا تعین ضروری ہے، آیت کا تعین ضروری نہیں، سجدہ سہو میں نیت کا تعین ضروری ہے اور سجدہ شکر میں نیت کا تعین ضروری نہیں لیکن اظہر یہ ہے کہ اس میں بھی تعین ضروری ہے عوام الناس جو نماز کے بعد سجدہ کرتے ہیں وہ مکروہ ہے
٣. فرض و واجب میں رکعتوں کی تعداد کی نیت شرط نہیں ہے البتہ افضل ہے اور اس میں غلطی سے نماز میں کوئی نقصان نہیں آتا

سنت و نفل کی نیت

١. نفل و سنت و تراویح کے لئے فقط نماز کی نیت کر لینا کافی ہے نفل یا سنت یا تراویح کہنا اور تعداد رکعت کہنا ضروری نہیں
٢. تراویح کی نیت میں احتیاط یہ ہے کہ تراویح یا سنتِ وقت یا قیامِ لیل کی نیت کرے
٣. اور سنتوں میں احتیاط یہ ہے کہ یہ نیت کرے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی متابعت میں نماز پڑھتا ہوں
کعبہ کی طرف منھ کرنے کی نیت کسی نماز میں شرط نہیں خواہ کعبہ معظمہ کے قریب ہو یا دور، البتہ کعبہ معظمہ کی طرف منھ یعنی سینہ کرنا شرط ہے جو بلا نیت حاصل ہو جاتا ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ