اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


قضا نماز کی نیت کے مسائل

١. قضا کی نماز میں تعین شرط ہے پس اگر بہت سے نمازیں فوت ہو گئیں اور ان کی قضا پڑھنے لگے تو ضروری ہے کہ وقت یعنی ظہر یا عصر وغیرہ کا تعین کرے اور یہ بھی تعین کرے کہ فلاں روز کی ظہر یا عصر وغیرہ پڑھتا ہوں اگرچہ فوت ہوئی نمازوں کی کثرت کی وجہ سے ترتیب ساکت ہو گئی ہو، اگر دن یا سال وغیرہ یاد نہ ہو تو اس کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ یوں نیت کرے کہ میں سب سے پہلی ظہر یا عصر وغیرہ کی نماز جو مجھ پر واجب ہے (یا یوں کہے جو میرے ذمہ ہے) پڑھتا ہوں ہر نماز کے لئے یہی نیت کرے یا یوں نیت کرے کہ سب سے آخری ظہر یا عصر وغیرہ کی نماز جو مجھ پر واجب ہے یا جو میرے ذمہ ہے) پڑھتا ہوں
٢. اگر نفل نماز شروع کر کے توڑ دی تو اس کی قضا کا بھی تعین کرے
٣. اگر کسی کے ذمہ ایک ہی وقت کی نماز قضا ہو تو اس کو دن معین کرنے کی ضرورت نہیں
٤. اگر اسی دن کی قضا نماز ادا کی نیت سے یا ادا قضا کی نیت سے پڑھی جب کہ دل میں اس دن کا تعین کیا ہو تو نماز ہو جائے گی اور قضا یا ادا کی غلطی مضر نہیں ہو گی



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ