اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نیت بدلنے کے مسائل

١. کسی نے دل میں ظہر کی نیت کی اور اس کی زبان سے عصر نکل گیا تو اس کی نماز جائز ہے
٢. کسی نے فرض نماز شروع کی پھر اس کو گمان ہوا کہ نفل پڑھتا ہوں اور نفل کی نیت پر نماز پوری کر لی تو وہ نماز فرض ادا ہوئی اور اگر اس کے برعکس ہوا تو جواب بھی برعکس ہو گا کیونکہ شروع کرتے وقت کی نیت کا اعتبار ہے بعد کی نیت کا اعتبار نہیں جب تک کہ پہلی نیت کو توڑ کر اور اللّٰہ اکبر کہ کر نیت نہ باندھے
٣. اگر کوئی نماز مثلاً ظہر کی نماز شروع کی پھر نفل نماز یا عصر کی نماز یا جنازے کی نیت کر لی تو تکبیر کہی تو پہلی نماز سے نکل گیا اور دوسری نماز شروع ہو گئی اور اگر تکبیر نہ کہے اور صرف دل میں نیت کرے تو پہلی نماز سے نہیں نکلتا اصول یہ ہے کہ جب تک دوسری نماز کی نیت کر کے زبان سے تکبیر نہ کہے یا اور کوئی نماز کو توڑنے والا عمل نہ کرے صرف نماز توڑنے یا نماز بدلنے کی نیت سے نماز ٹوٹتی اور بدلتی نہیں
٤. اگر شروع کی ہوئی نماز میں پھر اسی نماز کی نیت سے تکبیر کہی تو پہلی ہی نیت برقرار رہے گی اور نماز شروع ہی سے شمار میں آئے گی، دوسری نیت کے وقت سے نماز شروع نہیں ہو گی، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ صرف دل سے نیت کرے لیکن اگر نیت کے الفاظ زبان سے بھی کہے تو وہ پہلی نماز ٹوٹ جائے گی اور نئے سرے سے شروع ہو جائے گی دوسری نیت سے پہلے کی پڑھی ہوئی نماز شمار میں نہ آئے گی



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ