اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


دو نمازوں کو ایک نیت میں جمع کرنا

دو نمازوں کو ایک نیت میں جمع کرنے کی چند صورتیں اور ان کے احکام یہ ہیں:
١. دو فرض نمازوں کی نیت کی اُن میں سے ایک فرضِ عین اور دوسری فرضِ کفایہ یعنی نماز جنازہ، تو فرض عین کی نیت صحیح ہو جائے گی کیونکہ وہ قویہے اور فرض کفایہ کی نیت لغو ہو جائے گی
٢. دونوں فرض عین ہیں مگر ایک وقتی ہے اور دوسری کا وقت نہیں تو وقتی فرض نماز کی نیت درست ہو گی دوسری کی لغو
٣. ایک وقتی دوسری قضا تو صاحب ترتیب کے لئے اگر وقت میں گنجائش ہو تو قضا کی نیت درست ہو گی کیونکہ اس کے لئے یہ قوی ہے اور وقتی کی لغو ہو جائے گی، اور اگر وقت میں گنجائش نہیں تو نیت وقتی ہی کے لئے ہو گی خواہ وہ صاحب ترتیب ہو یا نہ ہو اور اگر وہ صاحب ترتیب نہیں ہے تو دونوں میں سے کوئی نماز درست نہیں ہو گی نئے سرے سے کسی ایک کی نیت کرے
٤. اگر دو قضا نمازوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور وہ صاحب ترتیب ہو تو یہ نیت پہلی قضا نماز کی ہو گی اور اگر صاحب ترتیب نہیں ہو تو دونوں میں سے کوئی نماز صحیح نہیں ہے
٥. گر فرض اور نفل کی ایک ساتھ نیت کرے تو فرض کی نیت ہو گی کیونکہ وہ قوی ہے
٦. اگر دو نفل ( یا سنت) نمازوں کی اکٹھی نیت کرے تو دونوں طرف سے یہ نیت کافی ہو جائے گی اور دونوں کا ثواب پائے گا
٧. اگر نفل اور نماز جنازہ کی اکٹھی نیت کی تو نفل ہو گی
٨. اگر نماز پڑھتے ہوئے دل میں روزے یا اعتکاف کی نیت کی تو درست و جائز ہے اور اس سے نماز فاسد نہ ہو گی کیونکہ ایک عبادت میں دوسری عبادت کی نیت کرنا درست ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس عبادت میں مشغول ہو اس کے دوران دوسری چیز میں مشغول نہ ہو



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ