اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


منفرد و امام و مقتدی کی نیت کے مسائل

١. جو شخص اکیلا نماز پڑھتا ہے اس کو تین چیزوں کی نیت ضروری ہے تاکہ باتفاق علماء نماز جائز ہو جائے، اول یہ کہ وہ نماز اللّٰہ تعالٰی کے واسطے پڑھتا ہے ، دوم وقتی فرض ظہر عصر وغیرہ کی نیت کرنا سوم قبلہ کی سمت کی نیت کرنا (لیکن یہ مستحب ہے واجب نہیں) پس نیت کے الفاظ مختصر کہے مثلاً یہ کہے کہ " میں خالص اللّٰہ تعالٰی کے لئے دو رکعت نماز فرض فجر کی نیت کرتا ہوں اور میرا منھ قبلے کی طرف ہے"
٢. امام بھی وہی نیت کرے جو تنہا نماز پڑھنے والا کرتا ہے اور امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں البتہ جماعت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے امامت کی نیت کرنی چاہئے اس کے بغیر اس کو جماعت کا ثواب نہیں ملے گا، عورتوں کی امامت کے لئے شروع نماز میں ان کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ عورتوں کی نماز درست نہ ہو گی لیکن نماز جمعہ و عیدین و نماز جنازہ میں ضروری نہیں اگر ان میں امام عورتوں کی امامت کی نیت نہ کرے تب بھی نماز جمعہ و عیدین و نماز جنازہ درست ہو جائے گی
٣. مقتدی یعنی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا بھی تنہا نماز پڑھنے والے کی طرح نیت کرے اور اس کے ساتھ ہی اقتدا کی نیت بھی کرے اس لئے کہ اقتدا کی نیت کے بغیر اقتدا جائز نہیں ہے مگر جمعہ اور عیدین و نماز جنازہ میں مختار یہ ہے کہ اقتدا کی نیت ضروری نہیں ہے
٤. اگر امام کو نماز میں پایا اور وہ یہ نہیں جانتا کہ امام فرض پڑھتا ہے یا تراویح تو ایسے موقع پر چاہئے کہ فرض نماز کی نیت سے اس کے ساتھ شامل ہو جائے اگر وہ فرض ہوں گے تو اس کا بھی فرض پڑھنا درست ہو جائے گا ورنہ اس کی نماز نفل ہو جائے گی اور تراویح نہ ہو گی کیونکہ تراویح فرض عشاءکے بعد ہوتی ہے
٥. اگر مقتدی اپنے واسطے آسانی چاہے تو یہ نیت کرے کہ امام کے پیچھے وہی نماز پڑھتا ہوں جو امام پڑھتا ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ