اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نمازی کے اقسام مع احکام

نمازی چھ طرح کے ہوتے ہیں
١. جو فرضوں اور سنتوں کو جانتا ہے یعنی جانتا ہے کہ فرض کے کرنے میں ثواب اور نہ کرنے میں عذاب ہے اور سنت کے کرنے میں ثواب اور نہ کرنے میں عذاب نہیں اس نے صرف ظہر یا فجر وغیرہ کی نیت کی تو وہ کافی ہو گی اور وہ فرض کی نیت کے بجائے ہو جائے گی
٢. جو شخص فرض و نفل و سنت کو جانتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس وقت میں کتنے فرض ہیں اور کتنی سنتیں اس نے فرض نماز کی نیت فرض کا ارادہ کر کے باندھی تو نماز درست ہے
٣. وہ نمازی جو فرض کی نیت سے نماز پڑھتا ہے مگر فرض کے معنی نہیں جانتا اس کی نماز جائز نہیں
٤. جو شخص یہ جانتا ہے کہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں اس میں کچھ فرض اور کچھ سنتیں ہیں اور جس طرح اور لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتا ہے اور وہ فرض اور نفل میں امتیاز نہیں رکھتا تو اس کی نماز جائز نہیں لیکن اگر اس نے نماز جماعت سے پڑھی اور امام کی نماز کی نیت کی تو بعض کے نزدیک اس کی نماز درست ہے
٥. وہ شخص جس کا یہ اعتقاد ہے کہ سب نمازیں فرض ہیں تو اس کی نماز جائز ہے
٦. جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر نماز فرض کی ہے لیکن وہ پانچوں وقت نماز پڑھتا ہے اس کی نماز جائز نہیں ہے پس جن صورتوں میں نماز جائز نہیں ہے ان کی قضا واجب ہے جو شخص فرض و نفل میں فرق نہیں جانتا اور ہر نماز میں فرض کی نیت کر لیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے اس کی بقدر فرض نماز فرض ادا ہو جائے گی اور باقی نفل ہو گی اور ایسے شخص کے پیچھے ان نمازوں میں اقتدا جائز ہے جن سے پہلے سنت مئوکدہ نہیں ہے اور ان نمازوں میں اقتدا جائز نہیں جن سے پہلی سنت مئوکدہ ہیں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ