اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نیت میں ریا و سمعہ کے مسائل

١. جس عبادت میں بہت سے افعال ہوں اس کے ہر فعل کے لئے جدا جدا نیت ضروری نہیں بلکہ ایک نیت شروع میں کافی ہے جیسے اس عبادت میں جس میں یک ہی فعل ہو
٢. جس عمل کو اخلاص کے ساتھ شروع کیا پھر اس عمل میں ریا داخل ہو -گئی تو شروع کا اعتبار ہو گا اور وہ عمل اخلاص کے ساتھ ہی رہے گا
٣. ریا کامل یہ ہے اکیلا ہو تو نماز نہ پڑھے اور لوگوں کے سامنے ہو تو دکھانے کے لئے نماز پڑھے ایسی نماز جائز نہیں اور اس کا لوٹانا واجب ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے اچھی طرح نماز پڑھتا ہے اور اکیلا بھی پڑھتا تو ہے مگر اچھی طرح نہیں پڑھتا تو یہ ریاِ ناقص ہے اس کو اصل نماز کا ثواب مل جائے گا اور وہ فرض اس سے ادا ہو جائے گا مگر اچھی طرح پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا
٤. ریا فرضوں میں داخل نہیں ہوتی یعنی فرضوں کو ذمہ سے ادا ہونے سے نہیں روکتی بلکہ ثواب کی زیادتی کو ضائع کرتی ہے- روزوں میں ریا داخل نہیں ہوتی، سمعہ اسے کہتے ہیں کہ آدمی اس لئے کام کرے کہ لوگ سنیں اور دوسرے لوگوں میں اس کی تعریف کریں اگرچہ عمل کے وقت لوگ موجود نہ ہوں، یہ بھی ریا کے حکم میں ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ