اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


٣. قرآت

١. نماز میں قیام کی حالت میں کم از کم ایک آیت پڑھنا فرض ہے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ایک پوری آیت ہے مگر صرف اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہہو گا
٢. فرض نماز کی دو رکعتوں میں خواہ وہ کوئی سے ہو اور نمازِ وتر اور سنت و نفل کی تمام رکعتوں میں قرآت فرض ہے
٣. قرائت فرضِ عملی ہے اور اُس شخص پر ہے جو اس فرض پر قادر ہے پس جس شخص کو ایک آیت بھی یاد نہ ہو وہ قرائت کی جگہ سبحان اللّٰہ یاالحمد اللّٰہ پڑھ لے اور اس شخص پر جلد از جلد قرآن مجید سیکھنا اور قرآتِ فرض کی مقدار یاد کرنا فرض اور قرآت واجب کی مقدار یاد کرنا واجب ہے نہ سیکھنے کی صورت میں وہ سخت گناہگار ہو گا
٤. قرآت کا مطلب یہ ہے کہ قدرت ہوتے ہوئے تمام حروف مخارج سے ادا کئے جائیں تاکہ ہر حرف دوسرے سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے اورآہستہ پڑھنے کی صورت میں خود سن لے جو شخص صرف خیال سے پڑھے گا زبان سے الفاظ ادا نہیں کرے گا یا مخارج سے صحیح ادا نہیں کرے گا یا آہستہ قرآت والی نماز میں ایسا نہیں پڑھے گا کہ خود سن سکے تو اس کی نماز درست نہیں ہو گی
٥. قرآت جاگنے کی حالت میں کرے، نیند کی حالت میں قرآت کی تو جائز نہیں اسے پھر پڑھے اسی طرح رکوع یا سجدہ یا جو رکن بھی نیند کی حالت میں اداکیا اس کو جاگنے پر دوبارہ ادا کرے ( لیکن اگر کوئی رکن فرض و واجب کی مقدار بیداری کی حالت میں ادا ہوا اور باقی حصہ نیند میں تو اس رکن کے لوٹانے کی ضرورت نہیں )
٦. اصل عربی قرآن پاک کی قرآت کرے ترجمہ فارسی یا اردو وغیرہ میں قرآت کرنا بلا عذر جائز نہیں
٧. قرآت شاذہ نہ ہو



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ