اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز کی سنتیں

اگر نماز میں بھولے سے یا دانستہ کوئی سنت چھوٹ جائے تو نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے مگر دانستہ چھوڑنے سے برائی اور ملامت کا مستحق ہوتا ہے اور اگر سنت کو حق نہ جانے گا یا حقیر جانے گا تو کافر ہو جائے گا نماز کی ساٹھ سنتیں ہیں ان میں سے سات سنتیں تکبیر تحریمہ سے متعلق ہیں اور آٹھ قیام و قرآت سے، آٹھ رکوع سے ایک قومہ سے دو تبدیلی رکن سے سولہ سجدہ سے دس جلسہ و قعدہ سے سات سلام سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک مقتدی سے متعلق ہے ان کی تفصیل یہ ہے

تکبیر تحریمہ کی سنتیں

١. تکبیر تحریمہ کے لئی دونوں ہاتھوں کو اٹھانا،
٢. دونوں ہاتھوں کو تکبیر سے پہلی اٹھانا،
٣. دونوں ہاتھوں کا کانوں تک اٹھانا اس طرح کہ انگھوٹھے کانوں کی لو کے مقابل ہوں اور انگلیوں کے سرے کانوں کے کناروں کے مقابل ہوں عورتیں دونوں ہاتھ کندھے تک اٹھائیں عذر کی حالت میں مردوں کو بھی کندھوں تک اٹھانے میں مضائقہ نہیں،
٤. ہاتھ اٹھاتے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی رکھنا یعنی نہ بہت ملی ہوئی ہوں اور نہ بہت کھلی ہوں،
٥. انگلیوں اور ہتھلیوں کو قبلہ رخ رکھنا،
٦. تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑا ہونا،
٧. تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کی نیچے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا اس طرح کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی کلائی کے جوڑ پر رہے انگھوٹھے اور چھنگلیا سے حلقہ بنا کر کلائی کو پکڑے باقی تین انگلیاں کلائی کی پشت پر رہیں عورتیں سینے پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھیں اور حلقہ نہ بنائیں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ