اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،


نماز کے اندر عورتوں کے مخصوص مسائل

عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں صرف چند مقامات میں اُن کو مردوں کے خلاف کرنا چاہئے اور وہ انتیس ہیں اور ایک حکم اعتکاف کے متعلق ہے
١. عورتوں کو قیام میں دونوں پائوں ملے ہوئے رکھنے چاہئیں ان میں فاصلہ نہ رکھیں، اسی طرح رکوع و سجود میں بھی ٹخنے ملائیں
٢. عورتوں کو خواہ سردی وغیرہ کا عذر ہو یا نہ ہو ہر حال میں چادر یا دوپٹہ وغیرہ کے اندر ہی سے ہاتھ اٹھانے چاہئیں باہر نہیں نکالنے چاہئیں
٣. صرف اپنے کندھوں کی برابر ہاتھ اٹھانے چاہئیں
٤. تکبیر تحریمہ کے بعد سینہ پر پستان کے نیچے یا اوپر ہاتھ رکھنے چاہئیں
٥. داہنی ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دینا چاہئے
٦. رکوع میں زیادہ جھکنا نہیں چاہئے بلکہ اس قدر جھکیں جس میں ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہچ جائیں
٧. رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں گھٹنوں پر بغیر کشادہ کئے ہوئے بلکہ ملا کر رکھنی چاہئیں
٨. رکوع میں اپنے ہاتھوں پر سہارا نہ دے
٩. رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لے ان سے پکڑے نہیں
١٠. رکوع میں اپنے گھٹنوں کو جھکائے رکھے
١١. رکوع میں اپنی کہنیاں اپنے پہلوئوں سے ملی ہوئی رکھنی چاہئیں یعنی سمٹی ہوئی رہیں
١٢. سجدے میں کہنیاں زمین پر بچھی ہوئی رکھنی چاہئیں
١٣. سجدے میں دونوں پائوں انگلیوں کے بل کھڑے نہیں رکھنے چاہئیں بلکہ دونوں پائوں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھے اور خوب سمٹ کر اور سکڑ کر سجدہ کرے ( یعنی سرین نہ اٹھائے)
١٤. سجدے میں پیٹ رانوں سے ملا ہوا ہونا چاہئے یعنی پیٹ کو رانوں پر بچھا دے
١٥. بازو پہلوئوں سے ملے ہوئے ہوں، غرضکہ سجدے میں بھی سمٹی ہوئی رہیں
١٦. التحیات میں بیٹھتے وقت مردوں کے برخلاف دونوں پائوں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا چاہئے یعنی سرین زمین پر رہے پائوں پر نہ رکھے
١٧. التحیات میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے
١٨. جب کوئی امر نماز میں پیش آئے مثلاً عورت کی نماز کے آگے سے کوئی گزرے تو تالی بجائے اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہئیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے اور مردوں کی طرح سبحان اللہ نہ کہے
١٩. مردوں کی امامت نہ کرے
٢٠. نماز میں صرف عورتوں کی جماعت کرنا مکروہ تحریمی ہے ( مردوں کے لئے جماعت واجب ہے)



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ