اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکٰوة کا بیان
زکوة کے معنی
اسلام کا تیسرا رکن زکٰوة ہے، شرع شریف میں زکٰوة کے معنی یہ ہیں کہ اپنے مخصوص مال کا ایک مخصوص حصہ جو شرع شریف نے مقرر کیا ہےاللّٰہ تعالٰی کے لئے کسی مسلمان فقیر یا مسکین وغیرہ کو جو زکٰوة لینے کا شرع میں حقدار ہے دے کر اُسے اس طرح مالک کر دینا کہ اپنا نفع اس سے بلکل ہٹا لے
زکوة کا حکم
زکٰوة ادا کرنا، فرضِ قطعی ہے جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور اس سے روکنے والے کو شرعی قاضی قتل کی سزا دے سکتا ہےاور جو شخص انکار تو نہیں کرتا مگر اپنے مال کی زکٰوة ادا نہیں کرتا قیامت کےروز اس کو بڑا سخت عذاب ہو گا فرض ہونے کے بعد فوراً ادا کرنا واجب ہے اور بلاعذر تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے ایسا شخص فاسق ہےاور اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی
زکوة کی فرضیت کا سبب
زکوة کے فرض ہونے کا سبب مال ہے جو بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو نصاب کی تشریح آگے آتی ہے



اگلا صفحہ