اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
١. آزاد ہونا
زکوة فرض ہونے کی ایک شرط آزاد ہونا ہے پس غلام پر زکٰوة فرض نہیں ہے
٢. مسلمان ہونا
دوسری شرط مسلمان ہونا ہے پس کافر پر زکٰوة فرض نہیں ہےخواہ کافر اصلی ہو یا مرتد ہو، کسی کے ذمہ زکٰوة باقی رہنے کے لئےبھی اسلام شرط ہے اس لئے اگر کوئی شخص زکٰوة فرض ہونے کے بعد العیاذباللّٰہ مرتد ہو گیا تو اس سے زکٰوة ساقط ہو جائے گی پس اگر وہ کئی سال کے بعد پھر اسلام لے آیا تو زمانہ ارتداد کے سالوں کی زکٰوة اس پر واجب نہیں ہو گی کافر اگر دارالحرب میں اسلام لے آیا اس کے بعد چند سال تک وہاں رہا تو اگر وہ زکٰوة کی فرضیت کو جانتا تھا تو اس پر زکٰوة واجب ہو گی اور اس کےادا کرنےکا فتویٰ دیا جائے گا ورنہ نہیں بخلالف اس کے اگر ذمی کافر دارالسلام میں مسلمان ہوا تو اس پر زکٰوة واجب ہو گی خواہ فرضیتِ زکٰوة کا مسئلہ اس کو معلوم ہو یا نہ ہو کیونکہ دارالسلام میں نہ جاننا عذر نہیں ہے
٣. عاقل ہونا
ایک شرط عاقل ہونا ہے لہذا اس مجنون ( دیوانہ) و معتوبہ ( نیم پاگل) پر زکٰوة فرض نہیں ہے جو تمام سال مجنون رہے پس اگر نصاب کا مالک ہونے کے بعد سال کے کسی حصہ میں خواہ اول میں یا آخر میں بہت دنوں کے لئے یا تھوڑے دنوں کے لئے افاقہ ہو گیا تو زکٰوة لازم ہو گی یہ ظاہر الروایت ہے اور یہی اصح ہے جس شخص پر بہوشی طاری ہو اس پر صحیح کی مانند زکٰوة واجب ہو گی اگرچہ کامل ایک سال تک بیہوش رہے
٤. بالغ ہونا
ایک شرط بالغ ہونا ہے پس نابالغ لڑکے پر زکٰوة واجب نہیں ہے اس کے مال پر بالغ ہو جانے کے وقت سے سال شروع ہو گا اور سال پورا ہونے پر زکٰوة واجب ہو گی اس سے پہلے نہیں
٥. بقدر نصاب مال کا مالک ہونا
ایک شرط یہ ہے کہ وہ مال کا مالک ہو اور وہ مال بقدر نصاب ہو، مال سے مراد سکہ رائج الوقت درہم و دینار یا روپیہ اشرفی وغیرہ اور سونا چاندی یا ان دنوں کے زیورات برتن سچا گوٹہ ٹھپہ وغیرہ اور سامانِ تجارت اور جنگل میں چرانے والے جانور ہیں اور بقدر نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ نصاب کی جو مقدار شرع شریف میں مقرر ہے اس سے کم نہ ہو سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے اور چاندی کا ساڑھے باون تولہ، تجارت کے مال کا سونا یا چاندی کے نصاب کی قیمت کے برابر ہونا ہے ان سب نصابوں اور ان کی زکٰوة کی تفصیل آگے الگ الگ بیان میں درج ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ