اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
٦. مال نصاب کا پورے طور پر مالک ہونا
ایک شرط یہ ہے کہ وہ بقدر نصاب مال کا پورے طور پر مالک ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملکیت اور قبضہ دونوں پائے جائیں، اگر صرف ملکیت ہو اور قبضہ نہ ہو جیسا کہ عورت کا مہر قبضے سے پہلے یا قبضہ ہو اور ملکیت نہ ہو جیسا کہ مکاتب غلام اور مقروض کی ملکیت تو اس پر زکٰوة واجب نہیں ہو گی مال ضمار کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ آگے آتا ہے کہ قبضہ کے بعد سے نیا سال شروع ہو گا تجارت کے لئے خریدی ہوئی چیز قبضہ سے پہلے صحیح یہ ہے کہ نصاب ہوتی ہے پس جو مال تجارت کے لئے خریدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کیا توخریدارپر قبضہ سے قبل زکٰوة واجب نہیں اور قبضہ کے بعد گزرے ہوئے سال کی زکٰوة بھی واجب ہے
٧. مال نصاب کا اس کی اصلی حاجتوں سے زائد ہونا
ایک شرط یہ ہے کہ اس کا مال اس کی اصلی حاجتوں سے فارغ و زائد ہو اصلی حاجتوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی انسان کو زندگی بسر کرنے میں ضرورت پڑتی ہے خواہ تحقیقی طور پر ہو جیسا کہ روزمرہ کا خرچ، رہنے کا گھر، لڑائی کے ہتھیار، پہنے اور سردی گرمی سے بچانے کے کپڑے خواہ کتنے ہی قیمتی ہوں اور اسی طرح دستکاروں کے اوزار، خانہ داری کا سامان، سواری کے جانور اور اہل علم کے لئے علمی کتابیں وغیرہ لیکن اگر کپڑوں میں سچا کام بنا ہوا ہے اور وہ اتنا ہے کہ اگر چاندی کو الگ کیا جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے یا اس کے پاس اور چاندی یا نقدی یا سونا ہو یا تجارت کا مال ہو اور اس کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہچ جائے تو اس چاندی پر زکٰوة واجب ہو گی ورنہ نہیں، یا تقدیراً ان کی طرف محتاج ہو مثلاً قرضہ، پس ان چیزوں پر زکٰوة فرض نہیں ہے اس لئے یہ نصاب میں شامل نہیں کی جائیں گی اسی طرح آرائش کے برتن جو سونے چاندی کے نہ ہوں اور جواہرات، موتی ، یاقوت و زمرد، سچے موتیوں کا ہار وغیرہ جب کہ وہ تجارت کے لئے نہ ہو اور خرچ کرنے کے لئے جو پیسے خریدے ہوں گھر کا اسباب، چھوٹے بڑے برتن مثلاً پتیلی، دیگچی، دیگ چھوٹی ہو یا بڑی، سینی لگن کھانے پینے کے برتن وغیرہ خواہ کتنے ہی ہوں اور چاہے روزمرہ کے استعمال میں آتے ہوں یا نہ آتے ہوں ان میں زکٰوة واجب نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ سونا چاندی کے علاوہ اور جتنا مال و اسباب ہو اگر وہ تجارت کے لئے نہ ہو تو اس میں زکٰوة واجب نہیں ہے لیکن اگر یہ چیزیں تجارت کے لئے ہوں تو پھر ان میں زکٰوة فرض ہے دستکاروں کی وہ چیزیں جو خود تو استعمال میں ختم ہو جاتی ہیں لیکن ان کا اثر باقی رہتا ہے جیسے قسم اور زعفران کپڑا رنگنے کے لئے اور کس و تیل کھال رنگنے کے لئے یہ چیزیں اگر بقدر نصاب قیمت کی ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو زکٰوة واجب ہو جائے گی عطاروں کی شیشیاں اور ان گھوڑوں وغیرہ کے لگام، رسیاں، مہاریں، جھول وغیرہ جو تجارت کے لئے خریدے گئے ہیں اگر یہ چیزیں ساتھ میں فروخت کی جائیں گی تو ان میں بھی زکٰوة ہے ورنہ نہیں کرایہ پر چلانے والے مال و اسباب میں زکٰوة واجب نہیں ہوتی پس اگر کسی کے پاس کچھ مکانات ہوں یا برتن ہوں جن کو وہ کرایہ پر چلاتا ہو تو ان پر زکٰوة واجب نہیں ہے خواہ کتنی ہی قیمت کے ہوں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ