اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
٨. مال نصاب کا قرض سے بچا ہوا ہونا
١. ایک شرط یہ ہے کہ اس کا مال قرض سے بچا ہوا ہو، کیونکہ مال قرض میں ہونے کی وجہ سے تقدیراً حاجت اصلیہ میں لگا ہوا ہے پس اگر کسی شخص کے پاس دو سو درہم ہیں اور اتنے ہی درہموں کا وہ قرضدار ہے تو اس پر زکٰوة واجب نہیں ہے، اس لئے وہ نہ ہونے کے حکم میں ہے اور اس لئے بھی کہ وہ قبضہ میں نہ ہونے کی وجہ سے ملکِ تام نہیں ہے
٢. قرضہ سے مراد وہ قرضہ ہے جس کا طلب کرنے والا کوئی بندہ ہو خواہ وہ قرض اللّٰہ تعالٰی کا قرض ہی ہو جیسا کہ زکٰوة اور خراج کا قرض اور جس کا طلب کرنے والا کوئی بندہ نہیں وہ وجوب زکوة کا مانع نہیں جیسے نذر کفارہ اور حج وغیرہ کا دین اور صدقہ فطر اور قربانی وغیرہ کا دین،
٣. دَینِ مہر معجل زکٰوة واجب ہونے کا مانع ہے متعلقاً بلا اختلاف اور دَینِ مہر موجل کے وجوب زکوة کا مانع ہونے میں اختلاف ہے، بعض فقہ نے معجل و موجل دونوں کو مانع زکٰوة کہا ہے عالمگیری میں ہے کہ ظاہر مذہب کے بموجب یہی صحیح ہے اور بعض مشائخ کے نزدیک معجل مانع وجوبِ زکوة ہے موجل مانع نہیں ہے ، اور قہستانی نے جواہر سے اس کی تصحیح کی ہے اور بعض علماء نے اِس کو فتویٰ کے لئے اختیار کیا ہے لیکن اکثر کے نزدیک فتویٰ کے لئے مختار یہ ہے کہ دینِ مہر معجل و موجل دونوں مانع وجوب زکٰوة ہیں واللّٰہ عالم بصواب
٤. دین ( قرضہ) خواہ اصالت کے طور پر ہو یعنی وہ شخص خود مقروض ہو یا کفالت کے طور پر ہو یعنی کسی قرضدار کا کفیل ہو ہر طرح زکٰوة واجب ہونے کا مانع ہے
٥. زکوة کا قرضہ بھی وجوب زکٰوة کا مانع ہے پس اگر کسی شخص کے پاس بقدر نصاب مال مثلاً دو سو درہم ہے اور اس پر دو سال گزر گئے اور اس نے ان دو سالوں کی زکٰوة نہیں دی تو اس پر دوسرے سال کی زکٰوة نہیں ہے کیونکہ پہلے سال کی زکٰوة پانچ درہم جو اس کے ذمہ قرض ہے نکالنے کے بعد اس کا مال بقدر نصاب نہیں رہے گا
٦. اسی طرح خراج کا قرضہ بھی زکٰوة واجب ہونے کا مانع ہے اس لئے کہ اس کا بھی بندوں کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا ہے
٧. قرضہ اس صورت میں مانع وجوبِ زکٰوة ہے جب کہ زکٰوة کے واجب ہونے سے پہلے کا ہو پس اگر زکٰوة واجب ہونے کے بعد یعنی سال پورا ہونے کے بعد لاحق ہوا تو زکٰوة ساقط نہیں ہوگی
٨. جو قرضہ دوران سال لاحق ہوا اور وہ تمام نصاب کے برابر ہے یا نصاب کو کم کر دینے والا ہے پھر اگر سال کے اخیر تک نصاب پورا نہیں ہو سکا تو بلاتفاق مانع وجوبِ زکٰوة ہے اگر سال پورا ہونے سے پہلے وہ قرض معاف ہو کر یا کسی اور ذریعہ سے نیا مال حاصل ہو کر دَین نکالنے کے بعد نصاب پورا ہو گیا تو امام محمد کے نزدیک وہ مانع وجوب ہو گا اور قرض معاف ہونے یا نیا مال حاصل ہونے کے وقت سے نیا سال شروع ہو گا، بحرالرائق میں اسی کو ترجیع دی ہے اور شامی نے اسی کو اوجہ کہا ہے لیکن المجتبیٰ اور بدائع کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وجوب زکٰوة کا مانع نہ ہونا ہمارے تینوں اماموں کا قول ہے واللّٰہ عالم
٩. اگر مقروض چند نصابوں کا مالک ہے اور ہر نصاب سےقرضہ ادا ہو جاتا ہے تو قرضہ اس نصاب کی طرف لگایا جائے گا جس سے قرض ادا کرنا زیادہ آسان ہو پس پہلے درہم و دینار( روپیہ و اشرفی وغیرہ نقدی) کی طرف لگایا جائے گا اگر اس سے پورا نہ ہو تو پھر تجارت کے مال کی طرف لگایا جائے گا اگر پھر بھی بچ رہے تو چرنے والے جانوروں کی طرف لگایا جائے گا یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بادشاہ کی طرف سے وصول کرنے والا ہو اور اگر خود صاحب مال ادا کرے تو اس کو اختیار ہے چاہے جس سے ادا کرے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ