اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
٩ مال نصاب کا بڑھنے والا ہونا
١. ایک شرط یہ ہے کہ مال نصاب بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا ہو جیسے نقدی کا تجارت سے اور جانوروں کا توالد وتناسل سے بڑھنا یا تقدیراً یعنی حکماً بڑھنے والا ہو یعنی وہ تجارت وغیرہ کے ذریعہ اس کے بڑھانے پر قادر ہو اس طرح پر کہ مال اس کے یا اس کے نائب کے قبضہ میں ہو
٢. بڑھنے والا مال دو طرح کا ہوتا ایک خلقی اور وہ سونا چاندی ہے، ان دونوں میں خواہ تجارت کی نیت کرے یا نہ کرے یا خرچ کرنے کی نیت کرے یا زیور وغیرہ بنا کر یا ویسے ہی رکھ چھوڑے استعمال نہ بھی کرے ہر حال میں زکٰوة واجب ہے دوسرا فعلی، سونے چاندی کےعلاوہ سب اموال فعلی طور پر بڑھنے والے ہیں کیونکہ یہ تجارت یا چرائی کے فعل سے بڑھیں گے، اس قسم کے مال میں تجارت کی نیت سے یا جانوروں کے چرانے کی نیت سے بڑھنے پر زکٰوة ہے ورنہ نہیں اور نیت کا تجارت یا چرائی کے فعل کے ساتھ متصل ہونا ضروری ہے ورنہ نیت معتبر نہیں ہو گی نیت کبھی صریحاً بھی ہوتی ہے جیسا معاملہ کرتے وقت یہ نیت کرے کہ یہ تجارت کے لئے ہے پس اگر روزمرہ کے استعمال کی نیت کی تو وہ تجارت کے لئے نہیں ہو گا اور کبھی دلالتاً بھی ہوتی ہے مثلاً تجارت کے مال کے بدلہ کوئی چیز خریدے یا جو گھر تجارت کے لئے ہےاس کو کسی اسباب کے عوض کرایہ پر دے تو خواہ صریحاً تجارت کی نیت نہ بھی کرے یہ اسباب تجارت کے لئے ہو جائے گا مضاربت کے مال کے لئے تجارت کی نیت کا ہونا شرط نہیں ہے پس مضاربت خواہ کسی نیت سے مال خریدے وہ تجارت ہی کا ہو گا
٣. مال ضمار میں زکٰوة واجب نہیں ہے اس لئے کہ اس میں مِلک ہونا اور بڑھنا دونوں نہیں پائے جاتے اور مال ضمار شرعاً وہ مال ہے جس کی اصل اس کی مِلک میں باقی رہے لیکن وہ اس کے قبضہ سے ایسا نکل گیا ہو کہ غالب طور پر اس کے واپس ملنے کی امید نہ رہے پس جب مالِ ضمار پر قبضہ کرے تو اس پر گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة واجب نہیں ہے منجملہ مالِ ضمار وہ قرضہ ہے جس کا قرضدار نے انکار کر دیا ہو خواہ اس پر گواہ ہوں یا نہ ہوں اور خواہ گواہ عادل ہوں یا غیر عادل ہوں اور خواہ قاضی نے حلف لے لیا ہو یا نہ لیا ہو ہر حال میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس مال پر زکٰوة واجب نہیں ہو گی، اور اگر مقروض قرضہ کا اقرار کرتا ہے تو خواہ وہ مالدار ہو یا مفلس، اگر قاضی نے اس کو مفلس ہونے کا حکم جاری نہیں کیا ہے تو بلاتفاق اس مال پر قبضہ کے بعد گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة واجب ہو گی اور اگر قاضی نے اس کو مفلس ہونے کا حکم جاری و مشتہر کر دیا تو اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس پر گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة واجب ہے پس جب وہ اس مال پر قبضہ کر لے تو گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة ادا کرے اسی پر فتویٰ ہے
٤. کسی نے کسی کا مال غضب کر لیا خواہ اس پر گواہ ہوں یا نہ ہوں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ بھی مال ضمار ہے اور اس میں بھی قبضہ کے بعد گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة واجب نہیں ہے، قبضہ کے وقت سے نیا سال شروع ہو گا ظلماً لئے ہوئے مال کا بھی یہی حکم ہے، اسی طرح جو مال گم ہو گیا ہو پھر کئی سال کے بعد مل گیا ہو اور جو جانور یا غلام بھاگ گیا ہو اور اس کو ایک سال یا چند سال گزرنے کے بعد پا لیا ہو اور جو مال دریا یا سمندر میں گر گیا ہو پھر ایک سال یا چند سال گزرنے کے بعد نکالا گیا ہو اور وہ مال جس کو جنگل یا بڑے احاطہ میں دفن کیا ہو اور جگہ بھول گیا ہو پھر کئی سال کے بعد وہ جگہ یاد آئی ہو اور مال مل گیا ہو اور وہ مال جو کسی اجنبی کے پاس امانت رکھا ہو اور پھر اس شخص کو بھول گیا ہو پھر ایک سال یا چند سال کے بعد وہ مال مل گیا ہو تو یہ سب مالِ ضمار کی صورتیں ہیں ان سب میں قبضہ کے بعد گزرے ہوئے سالوں کی زکٰوة واجب نہیں ہو گی بلکہ قبضہ کے وقت سے نیا سال شروع ہو گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ