اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
١٠. مال پر سال کا گزرنا
١. ایک شرط یہ ہے کہ مال نصاب پر سال گزر جائے یعنی وہ مال پورا سال اس کی ملکیت میں رہے
٢. زکوة میں قمری ( چاند کے حساب سے) سال کا اعتبار ہے
٣. پورا سال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ سال کے دونوں سروں میں پورا ہو درمیان میں اگر نصاب سے کم رہ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں مثلاً کسی کے پاس دس تولہ سونا تھا مگر سال کے بیچ میں پانچ تولہ رہ گیا مگر پھر آخر سال میں دس تولہ ہو گیا تو اسے دس تولہ کی زکٰوة دینی ہو گی، اسی طرح اگر کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زائد تھے پھر سال پورا ہونے سے پہلے پچاس روپے اور مل گئے تو سال پورا ہونے پر اس پر پورے ڈیڑہ سو روپے کی زکٰوة واجب ہو گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ پورے ڈیڑہ سو پر سال گزر گیا ہے، اسی طرح اگر کسی کے پاس سو تولہ چاندی رکھی تھی پھر سال گزرنے سے پہلے دو چار تولہ یا زیادہ سونا مل گیا تو اب اس سونے کا سال نیا شروع نہیں ہو گا بلکہ جب چاندی کا سال پورا ہو جائے گا تو سونے کی قیمت کو چاندی کی قیمت میں ملا کر سب مال کی زکٰوة واجب ہو گی
٤. اگر تجارت کے مال کو نقدی یعنی سونے چاندی یا روپیوں اشرفیوں سے بدلہ یا سونے کو چاندی یا چاندی کو سونے سے بدلہ تو سال کا حکم منقتع نہیں ہو گا کیونکہ یہ سب ایک جنس ہیں اور اگر چرانے والے جانوروں سے بدلا یا چرنے والے جانوروں کو ان کی جنس یا غیر جنس سے بدلا تو سال کا حکم منقطع ہو جائے گا اور نئے سرے سے سال شروع ہو گا
٥. جو مال سال کے دوران میں حاصل ہو وہ اس کی جنس میں شامل کیا جائے گا اور پہلے والے مال کا سال پورا ہونے پر نئے اور پرانے سب کو ملا کر زکٰوة ادا کی جائے گی مثلاً کسی کے پاس دو سو درہم تھے مگر سال ختم ہونے سے پہلے اس کے پاس دو سو درہم اور آ گئے اور چار سو درہم ہو گئے تو وہ چار سو درہم کی زکٰوة دیگا اور اگر سال گزرنے کے بعد نیا مال حاصل ہوا تو وہ پہلے مال میں شامل نہیں کیا جائے گا
٦. سونا چاندی اور اس کے سکے و زیور و برتن وغیرہ اور تجارت کا مال ایک ہی جنس ہیں اور ایک دوسرے میں ملائے جائیں گے چرانے والے جانور الگ جنس ہیں وہ نقدی میں نہیں ملائیں گے اسی طرح چرانے والے جانوروں میں بھی الگ اگ جنس ہیں یعنی اونٹ الگ ایک جنس ہیں ، گائے بیل بھینس بھینسا الگ ایک جنس ہیں اور بھیڑ بکری دُنبہ الگ ایک جنس ہیں پس یہ بھی ایک جنس دوسری میں نہیں ملائی جائے گی، مثلاً شروع سال میں کسی کے پاس اونٹ بقدر نصاب تھے اب درمیان سال میں اس کو کچھ بکریاں حاصل ہوئیں تو ان کو اونٹوں کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ