اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة کی ادائگی کی شرط
١. زکوة ادا کرنے کی شرط یہ ہے کہ زکوة دیتے وقت متصل ہی زکوة دینے کی نیت کرے یا زکوة کی رقم اپنے مال سے علیحدہ کرنے کے وقت زکوة میں دینے کی نیت سے الگ کرے اور یہ نیت کافی ہے خواہ زکوة کی کل رقم علیحدہ کرتے وقت نیت کرے یا اس کا بعض حصہ نکالتے وقت نیت کرے کیونکہ مستحقین کو متفرق وقتوں میں دینا ہوتا ہےاور ہر وقت نیت کے حاضر ہونے میں دقت ہے اس لئے زکوة کی رقم یا سامان علیحدہ کرتے وقت کی نیت کو شرع نے کافی قرار دیا ہے
٢. اگر اپنے مال میں سے زکوة کی نیت سے مالِ زکوة علیحدہ نہیں کیا اور یہ نیت کر لی کہ آخر سال تک جو کچھ دوں گا وہ زکوة ہے تو یہ جائز نہیں پس اس صورت میں وقتاً فوقتاً جو کچھ وہ فقیروں کو دیتا رہا اگر اس نے ہر دفعہ اس کے دینے کے وقت زکوة کی نیت کر لی تھی تو جائز و درست ہے اور بغیر نیت کے دیتا رہا تو زکوة ادا نہ ہو گی البتہ وہ صدقہ و خیرات ہو گا اس کا ثواب الگ ملے گا
٣. اگر کسی فقیر کو زکوة کی نیت کے بغیر زکوة کا مال دے دیا تو جب تک وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے اس نے اس کو خرچ نہیں کیا تو خواہ کتنے ہی دن ہو جائیں اس میں زکوة کی نیت کر لینے سے زکوة ادا ہو جائے گی اور یہ نیت کا حکماً متصل ہونا ہے اور اگر فقیر نے اس مال کو خرچ کر لیا ہے اس کے بعد زکوة دینے والے نے زکوة کی نیت کی تو اب وہ زکوة ادا نہ ہو گی پھر سے ادا کرے
٤. وکیل کو زکوة کی رقم دیتے وقت زکوة کی نیت کر لینا بھی کافی ہےکیونکہ زکوة دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے اور اگر اس نے وکیل کو دیتے وقت زکوة کی نیت نہ کی اور جب وکیل نے فقرائ کو دیا اس وقت مالک نے نیت کر لی تب بھی جائز ہے ( بلکہ جب تک فقیر کے پاس وہ مال بجنسہ موجود ہے تب تک بھی نیت کر لینے سے ادا ہو جائے گی)
٥. اگر کسی شخص نے سال پورا ہونے پر تمام مالِ نصاب خیرات کر دیا اور اس میں نہ زکوة کی نیت کی اور نہ کسی اور واجب مثلاً نزر وغیرہ کی نیت کی بلکہ نفل صدقہ کی نیت کی ہو یا بلکل کوئی نیت نہ کی ہو تو کل مال خیرات کرنے سے اس سے زکوة ساقط ہو جائے گی اور اگر نذر وغیرہ کسی دوسرے واجب کی نیت سے دیا تو وہ اُس ہی سے ادا ہو گا اور بقدرِ واجب زکوة اس کے ذمہ باقی رہے گی، اور اگر کل مال خیرات نہیں کیا بلکہ اس کا کچھ حصہ خیرات کیا تو امام ابو حنیفہ و امام محمد کے نزدیک خیرات کئے ہوئے حصہ کی زکوة اس سے ساقط ہو جائے گی یہی ارجح ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ